کچرا چُن کر سالانہ تقریباً 2 کروڑ روپے کمائی، نوجوان نے بنا کسی سرمایہ کاری کے بزنس کیسے بنایا

محنت اور مہارت سے معاشرے کا 'کچرا' بھی ایک شاندار مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
شائع 15 اپريل 2026 11:07am

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ عامر جارڈن نے کوڑے دانوں سے ضائع شدہ اشیاء جمع کرنے کے کام کو ایک منافع بخش کاروبار میں بدل کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غیر یقینی معاشی حالات کے باعث اب نوجوان بھی پھینکی ہوئی چیزوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر پیسے کمانے لگے ہیں۔

عامر جارڈن ایک زمانے میں بطور فائر الارم ٹیکنیشن کام کرتے تھے۔ پورا ہفتہ 90 گھنٹے کی سخت مشقت کرنے کے باوجود ان کے لیے گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل تھا۔

اسی دوران انہیں منافع کے لیے پھینکی گئی اشیاء کو مرمت کر کے دوبارہ بیچنے کا خیال آیا اور 2023 سے ڈمپسٹر ڈائیونگ شروع کر دی۔ اس منفرد شوق نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔

ایک دن وہ ایک فرنیچر اسٹور کے باہر پھینکی گئی اشیاء میں سامان تلاش کر رہے تھے کہ انہیں ایک ایسی الماری ملی جس کے صرف چند پیج غائب تھے، جب وہ اسے اپنی وین میں رکھ رہے تھے تو انہوں نے ایک شخص کو ایسی ہی نئی الماری اسی اسٹور سے خرید کر لے جاتے ہوئے دیکھا جس کی قیمت بعد میں 330 پاونڈ کے لگ بھگ معلوم ہوئی۔

آہستہ آہستہ یہ شوق ایک آن لائن سرگرمی میں بدل گیا۔ عامر اور ان کی اہلیہ روتھ اب نے یوٹیوب چینل ’کپل آف ڈمپسٹرز‘ کے ذریعے اس کو دستاویزی شکل دی، جو بعد میں ان کا مکمل روزگار بن گیا۔

عامر کا کہنا ہے کہ وہ ہفتے کا ایک دن اس کام کے لیے نکالتے ہیں ، جس میں وہ کوڑے میں پھینکی گئی اشیاء، جیسے کہ قیمتی فرنیچر، برانڈڈ لیپ ٹاپ اور مہنگے بیگز کو مرمت کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بناتے ہیں، جس سے وہ سالانہ تقریباً 50 ہزار پاؤنڈز کما رہے ہیں۔

ان کے مطابق دکانوں کے باہر سے ملنے والی اشیاء کبھی کبھی بالکل نئی ہوتی ہیں جنہیں معمولی خرابی یا نقص کی وجہ سے پھینک دیا جاتا ہے۔

یہ جوڑا نہ صرف ان اشیاء کو فروخت کر کے پیسے کماتا ہے بلکہ اپنی ضرورت کی زیادہ تر اشیاء بھی یہیں سے حاصل کرتا ہے۔ اس طرز زندگی نے انہیں خود کفیل بنا دیا ہے۔

ان کے لیے یہ صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اس نے ان کی سوچ بھی بدل دی ہے۔ اب وہ ریٹیل انڈسٹری کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں اور اشیاء کی مرمت، ری سائیکلنگ اور خود کفالت جیسے عملی ہنر بھی سیکھ چکے ہیں۔

ان کے مطابق اس طرزِ زندگی نے انہیں مالی دباؤ سے آزاد کیا ہے اور خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع دیا ہے۔

اس جوڑے نے فلاحی سرگرمیاں بھی شروع کردی ہیں۔ وہ ہر چیز اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ خوراک، کپڑے اور دیگر سامان ضرورت مند افراد اور تنظیموں کو عطیہ بھی کرتے ہیں۔

عامر کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں انہوں نے اتنا سامان اکٹھا کیا ہے جس سے ہزاروں افراد کی مدد کی جا سکتی ہے اور اب تک ایسے کئی افراد مستفید ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے نوجوان نسل میں ’ڈمپسٹر ڈائیونگ‘ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

اب زیادہ نوجوان پھینکی گئی اشیاء کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر آمدنی حاصل کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔ایک حالیہ سروے کے مطابق 31 فیصد نوجوانوں نے بچت کے لیے اس طریقے کو آزمایا ہے۔

اگرچہ یہ ایک پرکشش آمدنی کا ذریعہ ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس میں وقت کا ضیاع بھی ہو سکتا ہے اور نجی حدود کی خلاف ورزی جیسے قانونی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بہتر یہ ہے کہ وہی وقت اپنی بنیادی نوکری میں مہارت بڑھانے یا زیادہ آمدنی والے مواقع تلاش کرنے میں لگایا جائے۔

مالی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہر فرد کو اپنی مالی حالت، اخراجات اور بچت کو دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا ایسے غیر معمولی سائیڈ ہسلز ان کے لیے مناسب ہیں یا نہیں۔ بعض صورتوں میں یہ طریقے کم آمدنی کے باوجود زیادہ وقت ضائع کر سکتے ہیں۔

Read Comments