شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں 8 سے 16 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ
گرمی آتے ہی بجلی کی طلب بڑھ گئی، ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 500 میگاواٹ ہے تاہم بجلی کی طلب اور رسد میں واضح فرق کے باعث ملک بھر میں ملک بھر میں 8 سے 16 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس سے شہریوں کو شدید گرمی میں شدید اذیت اٹھانا پڑ رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پاکستان میں توانائی بحران سراٹھانے لگا۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھ گئی۔
پاورڈویژن نے سخت گرمی میں عوام پر بجلی گرادی، ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اعلان کے بعد غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھادیا گیا جب کہ دن رات بجلی کی عدم فراہمی کے باعث عوام کی زندگیاں اجیرن ہوگئیں۔
ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 500 میگا واٹ تک پہنچ گیا۔ اس وقت ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار 15 ہزار 400 میگا واٹ ہے جب کہ بجلی کی طلب 22 ہزار میگا واٹ تک ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مختلف ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں پن بجلی ایک ہزار 500 میگا واٹ فراہم کر رہی ہے جب کہ تھرمل ذرائع سے 9 ہزار 250 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔
اسی طرح سولر پاور پلانٹس 400 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور بیگاس سے بجلی کی پیداوار 200 میگا واٹ تک ہے۔
علاوہ ازیں ونڈ پاور پلانٹس سے ایک ہزار 200 میگا واٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے جب کہ نیوکلیئر پاور پلانٹس کی پیداوار 2 ہزار 850 میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باوجود ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق بجلی کی طلب اور رسد میں واضح فرق کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں 8 سے 16 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جاری ہے۔
ترجمان پاورڈویژن نے بتایا تھا کہ شام پانچ سے رات ایک بجے کے دوران تک روزانہ تقریباً دو سے اڑھائی گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی جائے گی، جس کا مقصد مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم کرنا ہے۔
پاور ڈویژن کا رات میں بجلی کم استعمال کرنے کا مشورہ
ملک بھر میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ کے معاملے پر پاور ڈویژن نے وضاحت جاری کرتے ہوئے بجلی کے بحران کی وجوہات بیان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خاص طور پر رات کے اوقات میں بجلی کا استعمال کم کریں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان پاور ڈویژن نے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ رات پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوئی۔
بیان کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 1991 میگاواٹ کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو معمول سے زیادہ لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی۔ گزشتہ رات پیک ٹائم کے دوران تقریباً 4500 میگاواٹ کا شارٹ فال سامنے آیا، جس نے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو بڑھا دیا۔
ترجمان نے بتایا کہ پن بجلی میں کمی کی بنیادی وجہ ڈیموں سے پانی کے کم اخراج ہے، جو صوبوں کی جانب سے کم طلب کے باعث ہوا۔ ان کے مطابق ارسا کی جانب سے پانی کی فراہمی طلب کے مطابق کی جا رہی ہے، تاہم بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کے باعث پانی کے استعمال میں کمی آئی ہے، جس نے بجلی کی پیداوار کو متاثر کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ رات پیک آورز کے دوران مجموعی طلب 18 ہزار میگاواٹ رہی جبکہ پیداوار اس کے مقابلے میں کم رہی، تاہم آنے والے دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے کا امکان ہے، جس سے پن بجلی کی پیداوار میں بہتری آ سکتی ہے اور لوڈشیڈنگ میں کمی متوقع ہے۔
پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ لوڈ مینجمنٹ کا شیڈول زیادہ تر رات کے اوقات کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جب کہ دن کے وقت شارٹ فال نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ آر ایل این جی کی دستیابی سے بھی صورتحال میں بہتری آنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
ترجمان نے صارفین سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بجلی کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں اور توانائی بچت کے اصول اپنائیں تاکہ موجودہ بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے اضافی لوڈشیڈنگ پر معذرت بھی کی اور یقین دلایا کہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
لاہور
ملک بھر میں آر این ایل جی سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی بندش سے شارٹ فال 5 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کر گیا، جس کے باعث شہری اور دیہی علاقوں میں غیراعلانیہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 8 گھنٹوں تک پہنچ گیا ہے۔
لاہور میں شدید گرمی کا آغاز ہونے سے قبل ہی بجلی غائب ہونے کی دہائی سنائی دینا شروع ہو گئی ہے۔ صرف لاہور میں بجلی کی ڈیمانڈ تین ہزار میگا واٹ ہے مگر فراہم صرف 2000 میگا واٹ کی جارہی ہے۔ ایک ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال کے باعث بجلی کی لوڈ شیڈنگ شہریوں کے لئے وبال جان بن گئی ہے۔
لاہور سمیت شیخوپورہ، گوجرانولہ، فیصل آباد، سرگودھا اور دیگر اضلاع میں بجلی قسمت سے آتی ہے۔ اس سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ صرف آر این ایل جی پر چلنے والا بلوکی پاور پلانٹ بند ہونے سے 1223 میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی ہے، جس سے لوڈ شیڈنگ بڑھنے سے شہریوں کا برا حال ہو گیا ہے۔ دوسری طرف لیسکو سمیت این ٹی ڈی سی بھی بجلی کے شارٹ فال کے متعلق آگاہی فراہم نہیں کر رہا ہے۔
کوئٹہ
کویٹہ میں گیس کی بندش کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام کے مشکلات بڑھا دیں، جہاں 10 سے 12 گھنٹے اور اندرون بلوچستان 15 سے 16 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔
گیس کی 12 گھنٹے بندش کے بعد اب ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی لوگوں کو سہنا پڑے گی، زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے بعد بجلی کا جو بحران کم ہوتا تھا وہ بھی عارضی ثابت ہوگا، ابھی گرمی کا آغاز نہیں ہوا لیکن بجلی کی بندش کا عندیہ سنا دیا گیا ہے۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول نافذ ہونے کے بعد کویٹہ اور نواحی علاقے اور اندرون صوبہ کے علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس کے زراعت اور کاروبار اثرات مرتب ہوں گے۔
کراچی
کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہوگیا، متعدد علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن گئی، بعض مستثنیٰ علاقوں میں بھی فالٹ کے نام پر کئی گھنٹے بجلی بند کر دی جاتی ہے۔
پشاور
پشاور میں بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی ناک میں دم کر دیا، مہنگا ایندھن اور گرمی کی آمد کے ساتھ ہی لوڈمجینمنٹ کے حکومتی فیصلے کے بعد پشاور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے۔
شہری علاقوں میں غیراعلانیہ طور پر 12 سے 14 جب کہ نواحی علاقوں میں 20،20 گھنٹے بجلی غائب رہنے لگی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر ایک گھنٹے بعد 3،3 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے، پہلے پیٹرول اور گیس کا رونا تھا، اب بجلی بھی میسر نہیں۔

