دل کی حفاظت کے لیے بلڈ پریشر کتنی بار چیک کرنا چاہیے؟
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا ’ہائیپر ٹینشن‘ ایک ایسا خاموش قاتل ہے, جس کی شروع میں کوئی خاص علامت محسوس نہیں ہوتی۔ یہ دل کے دورے، فالج اور گردوں کے فیل ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، باقاعدگی سے بلڈ پریشرچیک کرنا دل کی حفاظت کا سب سے آسان اور موثر طریقہ ہے۔
ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر چیک کرنے کی ضرورت ہر شخص کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس کا انحصارآپ کی صحت اور عمر پر ہے۔
اگر آپ صحت مند ہیں اور آپ کا بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے،تو سال میں ایک یا دو بار (ہر 6 سے 12 ماہ بعد) چیک اپ کافی ہے۔
اگر گھر میں بلڈ پریشر چیک کرنے کی مشین نہ ہو تو صحت مند افراد کو ہر 6 سے 12 ماہ بعد ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کروانا چاہیے، جبکہ زیادہ خطرے والے افراد کو 3 سے 6 ماہ بعد معائنہ کرانا بہتر ہے۔
دل کو صحت مند رکھنے کی احتیاطی تدابیر
صرف مانیٹرنگ کافی نہیں، بلکہ طرزِ زندگی میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے:
اپنی غذا میں نمک کی مقدار کم کریں اور پھل و سبزیاں زیادہ کھائیں۔
ہفتے میں کم از کم 150 منٹ پیدل چلنا یا تیراکی کرنا دل کے لیے انتہائی مفید ہے۔
یوگا، مراقبہ اور گہری سانس لینے کی مشقیں بلڈ پریشر کو متوازن رکھتی ہیں۔
وزن پر نظر رکھیں۔ بڑھتا ہوا وزن بلڈ پریشر کے خطرے کو دوگنا کر دیتا ہے۔
تمباکو نوشی اور الکحل سے مکمل پرہیز کریں۔
بلڈ پریشر کی باقاعدہ جانچ اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر آپ دل کی مہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، احتیاط علاج سے بہتر ہے۔