ایران کے مذاکرات سے انکار پر واشنگٹن میں اہم اجلاس، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل سے ٹیلیفونک گفتگو
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے جس کے پیش نظر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشم جنرل عاصؐ منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس ملاقات میں آبنائے ہرمز کے تازہ بحران اور ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہونے میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں اور تاحال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہو سکی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سمیت اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق، نائب صدر جے ڈی وینس سے متعلق یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں خود حصہ لیں گے۔
یہ بحران اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گیا جب ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ امریکا نے ناکہ بندی کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ حالانکہ اس سے محض چند گھنٹے پہلے صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایک دو روز میں کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے۔
اس تمام صورتحال کے پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے رواں ہفتے تہران میں ثالثی کے لیے اہم ملاقاتیں کی ہیں اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر اور ایرانی حکام سے کم از کم ایک بار فون پر براہِ راست بات بھی کی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ہفتے کو تصدیق کی کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران نئی تجاویز پیش کی ہیں جن پر ایران غور تو کر رہا ہے لیکن اب تک کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے رویے پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تھوڑی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی ہے اور وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایران ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اب بھی ایران سے بات چیت کر رہا ہے اور انہیں آج دن کے اختتام تک معلوم ہو جائے گا کہ آیا فریقین کسی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔
ایگزیوس کے مطابق، ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد ہی کوئی بڑی پیش رفت نہ ہوئی تو آنے والے چند دنوں میں دوبارہ جنگ چھڑ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والا حالیہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب دونوں فریقین ایران کے ایٹمی پروگرام اور یورینیم کے ذخیرے سے متعلق اختلافات کو کم کرنے میں کامیاب ہو رہے تھے۔
اب تمام تر نظریں ایران کے جواب اور پاکستان کی ثالثی پر لگی ہیں کیونکہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اگر بدھ تک کوئی مستقل حل نہ نکلا تو خطے میں امن کی امیدیں دم توڑ سکتی ہیں۔