65 سال قبل لاپتہ ہونے والی فیملی کا معمہ حل ہو گیا، حیرت انگیز انکشافات

خاندان اور کمیونٹی کو دہائیوں کے انتظار کے بعد سکون اور جواب مل گیا۔
شائع 19 اپريل 2026 10:11am

امریکا میں 66 سال قبل پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کا معمہ آخر کار چھ دہائیوں کے بعد حل ہو گیا ہے۔

یہ واقعہ امریکی ریاست اوریگون کے دریائے کولمبیا کے قریب پیش آیا، جہاں کینتھ اور باربرا مارٹن اپنی تین بیٹیوں کے ہمراہ کرسمس کی تیاری کے لیے گئے تھے لیکن واپس نہ لوٹ سکے۔

دسمبر 1958 میں کینتھ مارٹن، ان کی اہلیہ باربرا اور تین بیٹیاں کرسمس کی سجاوٹ کے لیے ہریالی جمع کرنے نکلے اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔ اس واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ کئی دہائیوں تک اسے ریاست کے سب سے بڑے حل طلب کیسز میں سے ایک سمجھا جاتا رہا۔

گمشدگی کے چند ماہ بعد ہی طویل تلاش کے بعد دو بیٹیوں، ورجینیا اور سوزن کی لاشیں دریا سے مل گئی تھیں، لیکن والدین اور بڑی بیٹی کا کچھ پتا نہ چل سکا، جس کی وجہ سے یہ کیس کئی دہائیوں تک ایک راز بنا رہا۔

اس کیس میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب 2024 میں ایک غوطہ خور آرچر میو نے دریائے کولمبیا کی تہہ میں ایک پرانی گاڑی دریافت کی۔ یہ 1954 کا ’فورڈ اسٹیشن ویگن‘ ماڈل تھا جو ریت اور مٹی میں دھنسا ہوا تھا۔ تحقیقات کے بعد تصدیق ہوئی کہ یہ گاڑی مارٹن خاندان ہی کی تھی۔

غوطہ خور آرچر میو کے مطابق، ’میر ے خیال میں گاڑی موڑتے وقت کسی رکاوٹ میں پھنس گئی ہوگی اور ریورس کرتے وقت اچانک بے قابو ہو کر دریا میں جا گری۔‘

بعد ازاں 2025 میں گاڑی کے ملبے کے قریب سے مزید انسانی باقیات برآمد ہوئیں جنہیں فرانزک لیب بھیجا گیا۔ جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ باقیات کینتھ، باربرا اور ان کی بڑی بیٹی باربی کی ہیں، یوں خاندان کے تمام افراد کا سراغ مل گیا۔

جینیٹکس لیب کی چیف ڈویلپمنٹ آفیسر کرسٹن مٹل مین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کو وہ سکون اور جواب مل گیا ہے جس کا وہ دہائیوں سے انتظار کر رہے تھے۔

ہڈ ریور کاؤنٹی شیرف آفس نے تمام شواہد کی بنیاد پر اس کیس کو باقاعدہ بند کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ ایک افسوسناک حادثہ تھا، جس میں گاڑی بے قابو ہو کر دریا میں گر گئی تھی۔

اس تصدیق کے ساتھ ہی امریکہ کی تاریخ کے ایک طویل ترین پراسرار باب کا اختتام ہو گیا ہے۔

Read Comments