ایرانی حملے کی زد میں آنے والے بھارتی بحری جہاز کے کپتان کی چیخ و پکار، آڈیو وائرل
خلیج عمان کے شمال میں ایرانی بحریہ کی جانب سے دو بھارتی بحری جہازوں پر براہِ راست فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی ہے، جس میں جہاز کے کپتان کو پاسدارانِ انقلاب کی نیوی سے حملہ روکنے اور جہاز واپس موڑنے کی اجازت کے لیے منتیں کرتے سُنا جاسکتا ہے۔
مبینہ آڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بھارتی خام تیل بردار جہاز ’سنمار ہیرالڈ‘ سے موصول ہوئی ہے۔
اس آڈیو میں جہاز پر موجود ایک اہلکار کو ایرانی بحریہ سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ آپ نے ہمیں خود گزرنے کی اجازت دی تھی، میرا نام آپ کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، لیکن اب آپ ہم پر فائرنگ کر رہے ہیں، ہمیں واپس مڑنے دیں۔
بھارتی جہاز سنمار ہیرالڈ عراق سے تقریباً بیس لاکھ بیرل خام تیل لے کر بھارت جا رہا تھا، جبکہ دوسرا جہاز ’جگ آرنَو‘ سعودی عرب سے بھارت کی جانب گامزن تھا۔
بھارتی بحری جہازوں پر حملوں کی خبر کے بعدبھارت کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی کو طلب کیا اور اس واقعے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
بھارتی دفترِ خارجہ نے ایرانی سفیر پر زور دیا کہ وہ بھارت کے تحفظات سے تہران کے حکام کو فوری آگاہ کریں اور بھارت جانے والے جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے عمل کو دوبارہ سہل بنائیں۔
آبنائے ہرمز اس وقت عالمی سیاست اور جنگی صورتحال کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا بیس فیصد خام تیل گزرتا ہے۔
یہ بحران اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت سے بنیادی نکات پر بڑے اختلافات موجود ہیں اور ہم حتمی معاہدے سے ابھی کافی دور ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے، جس کی وجہ سے خطے میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
اگر اس مدت میں توسیع نہ کی گئی یا کوئی مستقل امن معاہدہ طے نہ پایا تو ماہرین کو خدشہ ہے کہ سمندری حدود میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
بھارتی جہازوں پر حملے کے بعد اب دنیا بھر کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا ایران اپنے وعدے کے مطابق غیر جانبدار ممالک کی تجارتی آمد و رفت کو محفوظ بنائے گا یا ناکہ بندی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔