حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا

وزارت پیٹرولیم کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
اپ ڈیٹ 30 اپريل 2026 11:43pm

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، جس کے تحت پیٹرول 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 393 روپے 35 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 380 روپے 19 پیسے تھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق  پیٹرول پر لیوی 103 روپے 50  پیسے سے بڑھا کر 112 روپے 14 پیسے فی لیٹر کردی گئی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 28  روپے 69  پیسے سے بڑھاکر 37 روپے 33 پیسے فی لیٹر کردی گئی اور ہائی آکٹین پر لیوی 305 روپے 37 سے بڑھا کر 307 روپے 52 پیسے فی لیٹر کردی گئی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ کل یکم مئی کی چھٹی ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان آج  ہی کیا گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

امریکا ایران جنگ: پیٹرول کی قیمت کتنی بار بڑھیں اور کم ہوئیں؟

ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار نمایاں اضافہ اور کمی ریکارڈ کی گئی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلا بڑا اضافہ 6 مارچ 2026 کو کیا گیا، جب حکومت نے عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح تھی۔ اسی طرح ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 55 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے ہوگئی تھی۔

اس کے بعد دوسری بار 3 اپریل کو پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی جب کہ ڈیزل کی قیمت 184 روپے بڑھا کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی تھی۔

بعد ازاں عوامی ردعمل اور عالمی قیمتوں میں جزوی کمی کے تناظر میں حکومت نے ایک بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد قیمت کم ہو کر تقریباً 378 روپے فی لیٹر پر آ گئی تھی۔

10 اپریل کو وزیراعظم نے ایک بار پھر پیٹرول کی قیمت میں صرف 10 اور جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے فی لیٹر کمی کی منظوری دی تھی۔ اس کمی کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 366 روپے جب کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 385 روپے ہوگئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 17 اپریل کو ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 385 روپے 54 پیسے سے کم ہو کر 353 روپے 43 پیسے ہو گئی تھی جب کہ پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

18 اپریل کو لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 70 روپے 04 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 369 روپے 72 پیسے سے کم ہو کر 299 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ اسی طرح جیٹ فیول کی قیمت بھی 23 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 494 روپے 71 پیسے سے کم ہو کر 471 روپے 01 پیسہ فی لیٹر مقرر کی گئی۔

24 اپریل کو حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر تک بڑھادی تھی۔

Read Comments