نور مقدم قتل کیس: سزائے موت کے خلاف مجرم ظاہر جعفر کی نظر ثانی درخواست خارج
سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کی نظرثانی درخواست خارج کردی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کردی ہے۔
جمعرات کو جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران مرکزی مجرم ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کے آغاز میں مؤقف اپنایا کہ سب سے پہلے تسلیم کرتا ہوں مقتولہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا، میں مقتولہ کے خاندان کے سامنے معذرت خواہ ہوں تاہم میرے دلائل کا مرکز وقوعہ کے وقت مجرم کی دماغی حالت ہے، تسلیم کرتا ہوں میرا موکل وقوعے کے وقت موجود تھا۔
وکیل ظاہر جعفر نے کہا کہ یہ نہیں کہوں گا میرے موکل نے قتل نہیں کیا، وقوعے اور ٹرائل کے وقت میرے موکل کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی، ٹرائل کے دوران جیل میں بھی مجرم کو ادویات دی جاتی رہی ہیں، ریکارڈ موجود ہے کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیہ اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا، یہ وہ بیماریاں ہیں جس میں مریض جارحانہ مزاج میں آجاتا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ایسا ریکارڈ دکھائیں مجرم کا علاج کب شروع ہوا، وقوعے کے وقت علاج چل رہا تھا یا نہیں۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ یہ بھی ثابت کریں مجرم کب اس بیماری کا شکار ہوا، کس ڈاکٹر نے علاج کیا، ظاہر جعفر کے دوست بھی ہوں گے، مجرم کی اسکول یا کالج، یونیورسٹی کی پوری میڈیکل ہسٹری ہوگی۔
خواجہ حارث نے لندن کے ہارلے اسٹیٹ کلینک کا خط عدالت میں پیش کیا تو جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ اس خط پر تو سال 2022 کی تاریخ درج ہے، کیا مجرم واقعے کے بعد خود خط لینے لندن گیا تھا، آپ کی دلیل ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہیں ملا، یہ عجیب حیرت کی بات ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہ ملا لیکن لندن سے اس کے لیے خط آگیا۔
مجرم کے وکیل نے مزید کہا کہ حیران کن ہے مقتولہ کا تو ٹیسٹ کرایا گیا لیکن مجرم کا نشے کی جانچ کا ٹیکسٹ نہیں ہوا، میرا سوال ہے کہ استغاثہ نے مجرم کے نشے کا ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا، ٹرائل کے دوران جس طرح کی رپورٹنگ ہوئی استغاثہ نے دباؤ میں آکر میرے مؤکل کا ٹیسٹ نہیں کرایا، اس وقت سوشل میڈیا پر یہی چل رہا تھا مجرم کو نشہ کا عادی ثابت کرکے بچایا جائے گا، معذرت کے ساتھ جج صاحب نے بھی ٹرائل کے دوران میڈیا کا پریشر لیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ یہ عدالت فیصلہ نہ اخباری رپورٹنگ پر کرتی ہے نہ ہی ہم سوشل میڈیا کے دباؤ میں آتے ہیں، ہم نے چند روز پہلے سنی مسیح کیس میں اس ایشو کو طے کر دیا۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب آپ کے دلائل تضاد ہے، آپ کہہ رہے ہیں وقوعے کے وقت اس کی زہنی حالت ٹھیک نہیں تھی، اس کا مطلب یہ ہوا آپ سوشل میڈیا کے تبصروں کو درست قرار دے رہے ہیں، فرض کریں ہم مان لیتے ہیں مجرم کی زہنی حالت درست نہیں تھی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اس صورت حال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں، اگر ڈرگ ٹیسٹ بھی ہوجاتا تو آپ کو اس کا کیا فائدہ ہوتا۔
خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے ٹرائل کے دوران مجرم کے معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی جو مسترد ہوئی، سپریم کورٹ میں مرکزی کیس میں بھی میڈیکل بورڈ کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی، میری استدعا ہے کہ ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہے، سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی ہے، میں دوبارہ ٹرائل کی نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں، سزا موت دیتے وقت عدالت کو مکمل حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب اگر شروع میں ہی آپ جیسے وکیل کی خدمات لی جاتی تو مجرم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، ہم کب سے آپکو سن رہے ہیں کچھ تو گریس کا مظاہرہ کریں،تین گھنٹوں سے آپ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی درخواست مسترد کی، ہائیکورٹ میں میڈیکل بورڈ تشکیل نہ دینے کو چیلنج نہیں کیا گیا، وہ معاملہ تو حتمی ہوچکا ہے۔
عدالت نے درخواست پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کردی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ نور مقدم کے والدین کی جانب سے پیروی شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کی۔
سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی زہنی حالت کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔
خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ میں رپورٹ ہوا مجرم خود کو روحانی پیشوا اور مقتولہ کو قربانی کا جانور سمجھ رہا تھا، میرا موکل زہنی مریض ہے وہ دستخط تک ٹھیک نہیں کر سکتا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ہمیں بھی صبح اخبار پڑھ کر پریشانی ہوتی ہے، کچھ لوگوں کی اونچی آواز میں وی لاگ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ میڈیکل ہسٹری بہت طویل ہوتی ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ آج ہم باقی سارے کیسز ملتوی کررہے ہیں، ویسے بھی آج ہمارے بچے یہاں موجود نہیں ہیں۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے ٹرائل کے دوران اخباری رپورٹنگ کا حوالہ دیا، اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ہم یہاں خبریں سننے کیلئے نہیں بیٹھے ہوئے،جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بعض دفعہ ہم کہتے کچھ ہیں رپورٹ کچھ ہوتا ہے، اخبار میں رپورٹنگ کچھ ہوتی ہے، وی لاگ میں کچھ اور کہا جاتا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ ہر کوئی اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ مقتولہ نوز مقدم کے والدین کے وکیل شاور نے اپنے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ مجرم کی 20 جولائی کو وقوعے کی جگہ سے گرفتاری ہوئی، جسمانی ریمانڈ سے جوڈیشل ریمانڈ کے عرصے کے دوران بھی مجرم کو سنئیر وکیل کی خدمات حاصل تھیں، چالان، فرد جرم اور جرح کے دوران بھی لاہور کے فوجداری کے سینئر وکیل کی خدمات حاصل تھیں۔
شاہ خاور نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج سکندر القرنین مجرم کا وکیل تھا، عدالت نے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا، مجرم ظاہر جعفر نے 342 اور 265 کا بیان بھی خود ریکارڈ کرایا، بیان سے دیکھا جاسکتا ہے کہ مجرم دماغی طور پر بلکل صحت مند ہے، مجرم کے والدین بھی کیس میں ملوث ملزمان تھے، انہیں بھی سنئیر وکلا کی خدمات میسر تھیں، مجرم کے والدین نے بھی کبھی نہیں کہا کہ انکا بیٹا دماغی طور پر صحت مند نہیں۔
شاہ خاور نے موقف اپنای کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے بھی خود اور جیل ڈاکٹر سے مجرم کی ذہنی صحت کا جائزہ لیا، ٹرائل کورٹ کے جج بھی اس نتیجے پر پہنچے کے مجرم بلکل ٹھیک ہے، میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی مجرم کی استدعا ٹرائل کورٹ نے مسترد کی۔
شاہ خاور نے کہا کہ اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا، جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک عدالت میں چلائی گئیں، اس نقاط کی بنیاد پر میری استدعا ہے کہ نظرثانی خارج کی جائے۔
نور مقدم کیس کا پس منظر
نور مقدم کے قتل کا واقعہ 20 جولائی 2021 کو پیش آیا جب مقتولہ کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7/4 میں واقع ایک گھر سے برآمد ہوئی۔ اسی دن پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو موقعِ واردات سے گرفتار کر لیا۔ اس قتل نے پورے ملک میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور ایک طویل قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔
فروری 2022 میں ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور ریپ کے الزام میں 25 سال قیدِ سخت کی سزا سنائی۔ اس کے دو ملازمین، محمد افتخار اور جان محمد، جو وقوعہ کے وقت گھر میں موجود تھے، انہیں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
اسی مقدمے میں ظاہر کے والدین، معروف کاروباری شخصیات ذاکر جعفر اور اسما آدم جی، پر اکتوبر 2021 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی تاہم بعد میں عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر دونوں کو بری کر دیا۔ اسی طرح تھراپی ورکس کے چھ اہلکار، جو پولیس سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے، پہلے تو ملزم نامزد ہوئے لیکن بعدازاں عدالت نے انہیں بھی بری کر دیا۔ چالان میں الزام تھا کہ والدین اور تھراپی ورکس کے افراد نے جرم کو چھپانے اور ثبوت مٹانے کی کوشش کی۔
مارچ 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قتل کی سزائے موت برقرار رکھی اور مزید سخت فیصلہ دیتے ہوئے ریپ کے الزام میں دی گئی 25 سال قید کو بھی سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔ ملازمین کی سزا کے خلاف دائر اپیلیں بھی مسترد ہوئیں۔
اس فیصلے کے بعد اگلے مہینے ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، یہ مؤقف اپناتے ہوئے کہ اس کی سزا ’’ثبوت کے غلط جائزے‘‘ کا نتیجہ ہے اور ماتحت عدالتیں ایف آئی آر میں موجود ’’بنیادی خامیاں‘‘ سمجھنے میں ناکام رہیں۔
رواں برس مئی میں سپریم کورٹ نے قتل کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی جب کہ ریپ کے الزام میں سنائی گئی موت کی سزا کو کم کرکے عمر قید کر دیا۔
