ڈرونز اور راڈارز پر امریکی حملوں کے بعد ایران کا کویت اور بحرین پر جوابی وار

آبنائے ہرمز میں واقع گورک اور جزیرہ قشم کے نگرانی مراکز کو نشانہ بنایا گیا،امریکی سینٹرل کمانڈ
اپ ڈیٹ 06 جون 2026 10:21am

امریکا کی جانب سے ایرانی ساحلی فوجی تنصیبات، ڈرونز اور راڈارز پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی سمت میزائل داغنے اور خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔

ایران کی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے حوالے سے اس تازہ تصادم کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب امریکی فوج کی نگرانی میں چار تیل کے ٹینکرز نے غیر قانونی طور پر آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق، اس دوران ایرانی بحریہ نے ان جہازوں کو خبردار کیا، جس کے بعد ایک تیل کے ٹینکر کو نشانہ بنا کر روک دیا گیا جبکہ باقی خلاف ورزی کرنے والے دیگر بحری جہاز واپس مڑ گئے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے کچھ ہی دیر بعد امریکی ڈرون طیاروں نے ایران کے علاقوں قشم میں ایک مواصلاتی بندرگاہ اور سیریک میں ایک بندرگاہ پر دو میزائل داغے۔

اس امریکی حملے کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کی اور کویت میں موجود دو امریکی فضائی اڈوں اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کو نشانہ بنایا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اس واقعے کے بعد ایک سخت انتباہی بیان جاری کیا ہے۔

اپنے بیان میں آئی آر جی سی نے کہا کہ ”ہم جارح اور بچوں کے قاتل دشمن کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ شرارتیں دوبارہ دہرائی گئیں تو پھر صرف ایک محدود جواب کافی نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کے نتائج کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوگی۔“

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع گورک اور جزیرہ قشم کے نگرانی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

کویت کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملکی فضائی دفاعی نظام نے نامعلوم سمت سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کی، جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔

ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ چھ میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔

امریکا اور ایران گزشتہ چند ماہ سے جنگ بندی کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد ایک عبوری معاہدہ طے کرنا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات کو بعد کی بات چیت کے لیے چھوڑا جانا تھا، تاہم وقفے وقفے سے ہونے والی فوجی جھڑپوں کے باعث ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے اس کے منجمد مالی اثاثوں تک رسائی، تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ جیسے مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔

جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کر دی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ملک کے اندر بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں کے باعث جنگ ختم کرنے کے لیے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے بیشتر ڈرون اور میزائل سازی کے مراکز تباہ کر دیے گئے ہیں، تاہم ایران کے پاس اب بھی اپنے میزائل ذخیرے کا تقریباً 20 فیصد موجود ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی کافی تعداد میں میزائل اور ڈرون موجود ہیں، اگرچہ یہ تعداد جنگ کے آغاز کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امن معاہدے کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکا ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو اسے ”ایک تاریک راستے“ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Read Comments