بڑے مقدمے سے پہلے ہی ٹک ٹاک نے گھٹنے ٹیک دیے؛ کم عمر مدعی کے ساتھ تصفیے کا فیصلہ
امریکا میں سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات سے متعلق جاری قانونی مقدمات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے ایک 15 سالہ لڑکے کی جانب سے دائر مقدمہ عدالت سے باہر نمٹانے کے لیے اصولی طور پر سمجھوتہ کر لیا ہے، تاہم معاہدے کی حتمی شرائط ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مقدمہ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ لڑکے نے دائر کیا تھا، جس کی شناخت قانونی تقاضوں کے تحت صرف ”آر کے سی“ کے ابتدائی حروف سے ظاہر کی گئی ہے۔ نوجوان کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم مورگن اینڈ مورگن کے مطابق فریقین کے درمیان اصولی اتفاق ہو چکا ہے، تاہم معاہدہ ابھی مکمل طور پر حتمی نہیں ہوا۔
ٹک ٹاک نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق درخواست گزار نے تقریباً آٹھ سال کی عمر میں سوشل میڈیا استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ وہ ان پلیٹ فارمز کا عادی ہو گیا، جس کے باعث اس کی نیند متاثر ہوئی اور وہ ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل کا شکار ہوا۔
مقدمے میں ابتدا میں چار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، یعنی ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کو فریق بنایا گیا تھا۔ یوٹیوب جون میں مقدمہ نمٹانے پر رضامند ہو گیا تھا، جبکہ میٹا اور اسنیپ چیٹ کے خلاف مقدمے کی سماعت 27 جولائی سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
یہ مقدمہ کیلیفورنیا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر ان ہزاروں مقدمات میں شامل ہے، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان پلیٹ فارمز کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ بچے اور نوجوان زیادہ سے زیادہ وقت ان پر گزاریں، جس سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا کی ریاستی عدالتوں میں اس وقت ایسے 3,300 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، جبکہ وفاقی عدالتوں میں بھی تقریباً 2,600 مقدمات مختلف افراد، اسکولوں، مقامی حکومتوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے دائر کیے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنیاں ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچوں اور کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کر رہی ہیں اور اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔
اس سے قبل مارچ میں اسی نوعیت کے پہلے مقدمے میں جیوری نے میٹا اور گوگل کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے بالترتیب 42 لاکھ اور 18 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جون میں عدالت نے دونوں کمپنیوں کی جانب سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔