بیوی پر تشدد کا مقدمہ؛ یوٹیوبر علی حیدر آبادی کو ابتدائی ریلیف مل گیا
سوشل میڈیا شخصیت اور یوٹیوبر علی حیدرآبادی کو بیوی پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں عدالت سے عبوری ریلیف مل گیا۔ ایڈیشنل سیشن جج نے ان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 14 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں علی حیدرآبادی کو پولیس کی تفتیش میں شامل ہونے کی بھی ہدایت کی ہے۔ عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت تک انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
علی حیدرآبادی کے خلاف ان کی اہلیہ پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درج ہے۔ گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے سیشن کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
یہ پورا تنازع اس وقت سوشل میڈیا پر سب کے سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر طلاق سے متعلق ایک لائیو ویڈیو وائرل ہوئی۔ جس میں علی حیدر آبادی کو اپنی بیوی کو طلاق دیتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ وہ اب دوبارہ کبھی اپنی اہلیہ کی شکل نہیں دیکھیں گے۔
بعد ازاں ان کی اہلیہ زینب علی نے روتے ہوئے اپنے ہاتھ پر پٹیاں باندھے ایک ویڈیو جاری کی اور اپنے شوہر پر پچھلے تین سال سے مار پیٹ اور ذہنی اذیت دینے کا سنگین الزام لگایا۔ انہوں نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز سے بھی مدد کی اپیل کی۔
دوسری جانب علی حیدرآبادی نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر تمام الزامات مسترد کر دیے اور مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو انہوں نے اپنے دفاع کے لیے بنائی تھی۔
اس کے بعد زینب علی نے بھی ایک اور ویڈیو جاری کرتے ہوئے شوہر کے دعوؤں کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ ان کے درمیان طلاق پہلے ہی ہو چکی تھی۔ زینب نے الزام لگایا کہ ان کے شوہر صرف مشہور ہونے اور نئی شادی کرنے کے لیے لڑکیاں پھنساتے ہیں۔