خطرناک آبشار کی سیر مہنگی پڑ گئی، کئی طالب علم پھنس گئے
بھارتی ریاست کرناٹک کے خوبصورت علاقے کورگ میں واقع مشہور ماللی آبشار پر بڑا حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا، جہاں کالج کے کچھ طالب علم گھومنے پھرنے کے دوران ایک خطرناک آبشار کے تیز بہاؤ میں پھنس گئے۔ بعد ازاں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے اہلکاروں اور مقامی لوگوں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تمام طلبہ کو بحفاظت باہر نکال لیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ طالب علم وہاں موجود حفاظتی جنگلے اور باڑ کو پار کر کے آبشار کے اس حصے میں چلے گئے تھے جہاں جانے پر پابندی لگی ہوئی تھی۔
جب وہ وہاں پہنچے تو اچانک پانی کا بہاؤ بہت زیادہ تیز ہو گیا، جس کی وجہ سے وہ واپس آنے کا راستہ بھول گئے اور انہوں نے پانی کے بیچوں بیچ ایک چٹان پر پناہ لے لی اور امداد کا انتظار کرنے لگے۔
تصویروں اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو طالب علم تیز پانی کے طوفان کے درمیان کھڑے ہو کر مدد کا انتظار کر رہے تھے، جبکہ چاروں طرف پانی کا شدید بہاؤ جاری ہے۔
وہاں موجود لوگوں نے جب یہ دیکھا تو فوراً امدادی اداروں کو آگاہ کیا، جس کے بعد فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی اہلکاروں نے مقامی شہریوں کی مدد سے مشکل ریسکیو آپریشن کیا اور تمام پھنسے ہوئے طلبہ کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
دوسری طرف، کرناٹک میں اس سال بارشوں نے بڑی تباہی مچائی ہے جس میں اب تک تین لوگوں کی جان جا چکی ہے۔
منگلور کے علاقے میں یکم جولائی کی صبح بھاری بارش کی وجہ سے مٹی کا ایک بڑا تودا گرنے سے ایک مکان تباہ ہو گیا، جس کے ملبے تلے دب کر ایک ہی خاندان کے تین لوگ، جن میں دو بچیاں بھی شامل تھیں، ہلاک ہو گئے۔ تاہم وہاں موجود تین دوسرے لوگوں کو بچا لیا گیا ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران آبشاروں، ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں میں حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔