لائیو

انقرہ: نیٹو ہمارے ساتھ نہیں تو ہم کیوں اربوں ڈالر خرچ کریں؟ صدر ٹرمپ کی ترک صدر کے ہمراہ گفتگو

یہ بیٹھک ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ممالک پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے۔
اپ ڈیٹ 07 جولائ 2026 06:11pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر کو لے جانے والا خصوصی طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جہاں اجلاس کے دوران نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

انقرہ کے صدارتی محل میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر کو اپنا اچھا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ترکیہ کے درمیان تعلقات مضبوط اور دیرینہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک انتہائی مضبوط ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی ترکیہ کی حقیقی عسکری طاقت سے پوری طرح واقف نہیں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ان کی صدر اردوان سے تجارت، دوطرفہ تعلقات، عسکری تعاون اور ایران کی صورتِ حال سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

امریکی صدر نے نیٹو پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اتحاد سے سخت مایوس ہیں اور درحقیقت وہ اس سربراہی اجلاس میں شرکت بھی نہیں کرنا چاہتے تھے، تاہم چونکہ اجلاس کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے، اس لیے وہ یہاں آئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نیٹو کو اربوں ڈالر فراہم کرتا ہے تاکہ اتحادی ضرورت کے وقت اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو مدد درکار تھی تو کسی نے عملی تعاون نہیں کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حالیہ کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اس آپریشن میں کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے تحفظ فراہم کیا ہے، جب کہ برطانوی وزیراعظم نے صرف یہ کہا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ مدد کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے صدر رجب طیب اردوان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم رہنما ہیں اور پوری دنیا میں ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔ ایف 35 طیاروں کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایف 35 طیاروں کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کریں گے، ہم 5 ایف 35 طیارے خریدیں گے، ترکیہ کے ایف 35 طیارے خریدنے پر کوئی تشویش نہیں، ترکیہ کے روسی طیارے خریدنے پر کوئی اعتراض نہیں، یہ ایک ملک کے سربراہ کا اپنے ملک کے مفاد میں فیصلہ تھا۔

صدر ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم یوکرین تنازع حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، امید ہے یوکرین جنگ جلد ختم ہو جائے گی، ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہوسکتا تھا، ترکیہ صرف میری وجہ سے جنگ میں شامل نہیں ہوا، انھوں نے یہ بھی کہا کہ شام کے نئے صدر بہترین کام کر رہے ہیں، احمد الشرع نے شام کے بکھرے ہوئے ملک کو متحد کیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو انقرہ پہنچے تو ایتیمس گوت ایئر بیس پر ان کے لیے خصوصی استقبالی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ترک روایات کے مطابق استقبالی مقام پر روایتی سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکی کی ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ ترک اعزازی گارڈ نے بھی صدر ٹرمپ کو سلامی پیش کی۔

صدر رجب طیب اردوان خود ہوائی اڈے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو امریکا اور ترکی کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر اردوان کو اپنا دوست قرار دے چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے امریکا کے ترکی میں سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بارک، نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی موجود تھے۔

نیٹو کے اس اہم اجلاس میں رکن ممالک کے رہنما دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتِ حال سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے، جب کہ صدر ٹرمپ کی مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

نیٹو کا یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ تیز کر دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ متعدد یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں اور فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

تاہم اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیٹو کے اتحادی امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائی میں مناسب تعاون نہیں کر رہے، جب کہ کئی رکن ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

دوسری جانب یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بڑی حد تک نبھائیں۔ حکام کے مطابق یورپی ممالک نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ ایران کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے نیٹو پر کھل کر تنقید کی ہو۔ رواں سال اپریل میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس اتحاد پر شدید تحفظات ہیں۔ اس سے قبل اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کریں تو امریکا اتحاد سے الگ ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی، ایران اور یوکرین کی صورتحال سمیت اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔

اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 رکن ممالک کے سربراہان یا اعلیٰ نمائندے شریک ہیں، جب کہ نیٹو میں شامل نہ ہونے کے باوجود یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ بھی اجلاس میں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے اپنے وزرائے دفاع یا وزرائے خارجہ کو بھیجا ہے، جبکہ بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی خلیجی ممالک کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔

Read Comments