انقرہ: نیٹو ہمارے ساتھ نہیں تو ہم کیوں اربوں ڈالر خرچ کریں؟ صدر ٹرمپ

ایران کے خلاف کارروائی میں ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں تھی، امریکی صدر کی ترک صدر کے ہمراہ گفتگو
اپ ڈیٹ 07 جولائ 2026 06:38pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے، جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ اجلاس میں نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوان ان کے اچھے دوست ہیں اور ترکیہ کے ساتھ امریکا کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اور بااثر ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی ترکیہ کی حقیقی فوجی طاقت سے پوری طرح واقف نہیں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان کے ساتھ تجارت، دوطرفہ تعلقات، عسکری تعاون، ایران کی صورتِ حال اور دیگر اہم علاقائی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے ترکیہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

نیٹو پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس اتحاد سے سخت مایوس ہیں اور درحقیقت نیٹو سربراہی اجلاس میں آنا بھی نہیں چاہتے تھے، تاہم چونکہ اس کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے، اس لیے انہوں نے شرکت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تاکہ اتحادی ضرورت کے وقت اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو مدد کی ضرورت پڑی تو کسی نے عملی تعاون نہیں کیا۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے محفوظ رکھا، جب کہ بعض اتحادی صرف جنگ ختم ہونے کے بعد تعاون کی بات کرتے رہے۔

ترکیہ کے دفاعی معاملات پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ترکیہ کی جانب سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے پر کوئی تشویش نہیں، جب کہ روسی طیاروں کی خریداری پر بھی انہیں اعتراض نہیں کیونکہ یہ ہر خودمختار ملک کا اپنے قومی مفاد میں کیا جانے والا فیصلہ ہوتا ہے۔

روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے یوکرین تنازع حل کرنے میں کامیابی ملے گی اور امید ہے کہ جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔

مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم ان کے خیال میں ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے شام کے نئے صدر احمد الشرع کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک بکھرے ہوئے ملک کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اپنے دوست ممالک پر پابندیاں عائد نہیں کرنا چاہتا اور خطے کے مسائل کا حل تعاون اور مذاکرات کے ذریعے نکالنے کو ترجیح دیتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو انقرہ پہنچے تو ایتیمس گوت ایئر بیس پر ان کے لیے خصوصی استقبالی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ترک روایات کے مطابق استقبالی مقام پر روایتی سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکی کی ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ ترک اعزازی گارڈ نے بھی صدر ٹرمپ کو سلامی پیش کی۔

صدر رجب طیب اردوان خود ہوائی اڈے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو امریکا اور ترکی کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر اردوان کو اپنا دوست قرار دے چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے امریکا کے ترکی میں سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بارک، نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی موجود تھے۔

نیٹو کے اس اہم اجلاس میں رکن ممالک کے رہنما دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتِ حال سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے، جب کہ صدر ٹرمپ کی مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

نیٹو کا یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ تیز کر دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ متعدد یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں اور فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

تاہم اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیٹو کے اتحادی امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائی میں مناسب تعاون نہیں کر رہے، جب کہ کئی رکن ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

دوسری جانب یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بڑی حد تک نبھائیں۔ حکام کے مطابق یورپی ممالک نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ ایران کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے نیٹو پر کھل کر تنقید کی ہو۔ رواں سال اپریل میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس اتحاد پر شدید تحفظات ہیں۔ اس سے قبل اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کریں تو امریکا اتحاد سے الگ ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی، ایران اور یوکرین کی صورتحال سمیت اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔

اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 رکن ممالک کے سربراہان یا اعلیٰ نمائندے شریک ہیں، جب کہ نیٹو میں شامل نہ ہونے کے باوجود یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ بھی اجلاس میں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے اپنے وزرائے دفاع یا وزرائے خارجہ کو بھیجا ہے، جبکہ بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی خلیجی ممالک کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔