ٹرمپ کا ترکیہ پر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان، ایف 35 طیاروں کی فروخت پر بھی رضامندی

ایران کے خلاف کارروائی میں ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں تھی، امریکی صدر کی ترک صدر کے ہمراہ گفتگو
شائع 08 جولائ 2026 12:10am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انقرہ کو ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت پر بھی رضامندی ظاہر کر دی۔ انقرہ میں نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوان ان کے اچھے دوست ہیں اور ترکیہ کے ساتھ امریکا کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اور بااثر ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی ترکیہ کی حقیقی فوجی طاقت سے پوری طرح واقف نہیں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان کے ساتھ تجارت، دوطرفہ تعلقات، عسکری تعاون، ایران کی صورتِ حال اور دیگر اہم علاقائی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے ترکیہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

نیٹو پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس اتحاد سے سخت مایوس ہیں اور درحقیقت نیٹو سربراہی اجلاس میں آنا بھی نہیں چاہتے تھے، تاہم چونکہ اس کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے، اس لیے انہوں نے شرکت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تاکہ اتحادی ضرورت کے وقت اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو مدد کی ضرورت پڑی تو کسی نے عملی تعاون نہیں کیا۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے محفوظ رکھا، جب کہ بعض اتحادی صرف جنگ ختم ہونے کے بعد تعاون کی بات کرتے رہے۔

ترکیہ کے دفاعی معاملات پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ترکیہ کی جانب سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے پر کوئی تشویش نہیں، جب کہ روسی طیاروں کی خریداری پر بھی انہیں اعتراض نہیں کیونکہ یہ ہر خودمختار ملک کا اپنے قومی مفاد میں کیا جانے والا فیصلہ ہوتا ہے۔

روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے یوکرین تنازع حل کرنے میں کامیابی ملے گی اور امید ہے کہ جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔

مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم ان کے خیال میں ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے شام کے نئے صدر احمد الشرع کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک بکھرے ہوئے ملک کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں کام کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا میں پابندیاں لگانے والے بہت سے لوگ موجود ہیں، لیکن امریکا اپنے دوست ممالک پر پابندیاں برقرار نہیں رکھنا چاہتا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو انقرہ پہنچے تو ایتیمس گوت ایئر بیس پر ان کے لیے خصوصی استقبالی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ترک روایات کے مطابق استقبالی مقام پر روایتی سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکی کی ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ ترک اعزازی گارڈ نے بھی صدر ٹرمپ کو سلامی پیش کی۔

صدر رجب طیب اردوان خود ہوائی اڈے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو امریکا اور ترکی کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر اردوان کو اپنا دوست قرار دے چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے امریکا کے ترکی میں سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بارک، نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی موجود تھے۔

نیٹو کے اس اہم اجلاس میں رکن ممالک کے رہنما دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتِ حال سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے، جب کہ صدر ٹرمپ کی مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

نیٹو کا یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ تیز کر دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ متعدد یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں اور فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

تاہم اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیٹو کے اتحادی امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائی میں مناسب تعاون نہیں کر رہے، جب کہ کئی رکن ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

دوسری جانب یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بڑی حد تک نبھائیں۔ حکام کے مطابق یورپی ممالک نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ ایران کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے نیٹو پر کھل کر تنقید کی ہو۔ رواں سال اپریل میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس اتحاد پر شدید تحفظات ہیں۔ اس سے قبل اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کریں تو امریکا اتحاد سے الگ ہو سکتا ہے۔

بعد ازاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں واقع صدارتی کمپلیکس بش تپے میں نیٹو رہنماؤں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں شرکت کی، جہاں انہیں ترک صدر رجب طیب اردوان نے پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا۔ عشائیے میں شریک ہونے والے رہنماؤں کا فوجی بینڈ کی دھنوں کے ساتھ استقبال کیا گیا، جب کہ صدر ٹرمپ دیگر عالمی رہنماؤں کے بعد تقریب میں پہنچے۔

یہ عشائیہ صدر ٹرمپ کے لیے نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے سربراہان سے غیر رسمی ملاقات کا پہلا موقع تھا۔ تقریب میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی بھی شریک تھے، جنہیں صدر ٹرمپ گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف مواقع پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

نیٹو سربراہ اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات کو رکن ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور اہم علاقائی و عالمی امور پر غیر رسمی مشاورت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔