فٹبال میچز کا جوش دل کے لیے خطرناک کیوں ہے؟

فٹبال کا جوش کھیل کا حسن ہے، لیکن دل کی حفاظت کے لیے خوشی اور غصے دونوں کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔
شائع 08 جولائ 2026 01:05pm

رواں سال فٹ بال ورلڈ کپ کے سنسنی خیز مقابلوں نے جہاں دنیا بھر کے شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے، وہاں ان میچوں کے دوران لوگوں کے جذبات بھی مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ فٹبال میچ صرف کھیل نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے لیے جذبات کا طوفان ہوتا ہے۔ ایک ہی میچ کے دوران خوشی، غم، بے چینی اور شدید سنسنی جیسے مختلف احساسات یکجا ہو جاتے ہیں۔ میچ کے آخری لمحات میں تیز رفتار حملوں، دفاع توڑنے کی کوششوں اور گول کرنے کے فیصلہ کن مواقع کے دوران جوش اور ذہنی دباؤ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ اس کا براہِ راست اثر انسان کے دل پر پڑ سکتا ہے۔ طبی ماہرین نے اس حوالے سے شائقین کے لیے کچھ اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

العربیہ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہیوسٹن میتھوڈسٹ اسپتال کے شعبۂ امراضِ قلب کے سربراہ ڈاکٹر ولیم زغبی کہتے ہیں کہ فٹ بال میچ دیکھتے ہوئے شدید جذباتی تناؤ، جوش اور بے چینی کی وجہ سے انسان کے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔

ان کے نزدیک خاص طور پر وہ لوگ جنہیں پہلے سے دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر یا شوگر کا مسئلہ ہو، ان کے لیے انتہائی جذباتی لمحات خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض تحقیقات میں بڑے فٹبال ٹورنامنٹس کے دوران دل کے دورے کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

جب آخری منٹ میں گول ہو، پنالٹی ملے یا ریفری کوئی متنازع فیصلہ دے تو شائقین کے جذبات بہت تیزی سے بدلتے ہیں۔ خوشی، غصہ یا پریشانی کے یہ شدید لمحات دل کی دھڑکن اور خون کے دباؤ کو اچانک متاثر کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جسم کا ایک بالکل فطری ردِعمل ہے، جسے طبی زبان میں فائٹ اور فلائٹ یعنی لڑو یا بھاگو ردِعمل کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ نظام انسان کو خطرناک حالات کا سامنا کرنے یا دشمن سے جان بچا کر بھاگنے کے لیے تیار کرتا تھا۔

ڈاکٹر زغبی نے وضاحت کی کہ جب انسان کسی بھی قسم کے جسمانی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو جسم کے غدود ایسے ہارمون خارج کرتے ہیں جو دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتے ہیں تاکہ انسان مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکنا ہو جائے اور اسے اضافی توانائی ملے۔

شائقین کے شدید جوش و خروش پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ولیم زغبی نے کہا کہ اگرچہ فٹ بال میچ کے دوران شدید جوش بظاہر ایسا خطرہ نہیں لگتا جس کے لیے جسم اس طرح کا ردِعمل ظاہر کرے، لیکن ہمارا جسم اس فرق کو نہیں سمجھ پاتا۔ اسے صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان ایک انتہائی دباؤ والی کیفیت سے گزر رہا ہے، اس لیے وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کر لیتا ہے۔

انہوں نے عام لوگوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر افراد کے لیے فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ سنسنی خیز میچ دیکھتے وقت دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں یہ عارضی اضافہ عموماً نقصان دہ نہیں ہوتا اور یہ تبدیلیاں اتنی دیر برقرار نہیں رہتیں کہ دل پر کوئی مستقل برا اثر ڈالیں۔

البتہ دل کے مریضوں کے لیے صورتحال کافی مختلف اور تشویشناک ہو سکتی ہے۔ دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر بڑھنے سے دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور اسے معمول سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے دل یا شریانوں کے امراض میں مبتلا افراد کو سنسنی خیز میچ دیکھتے ہوئے سینے میں درد، دباؤ، گھٹن یا سانس پھولنے جیسی علامات زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر ولیم زغبی کے مطابق بہت کم صورتوں میں شدید ذہنی دباؤ یا جذباتی تناؤ اسٹریس کارڈیو مایوپیتھی یعنی دباؤ سے ہونے والی دل کے پٹھوں کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جو پہلے ہی اس عارضے کا شکار ہوں اور انہیں اس کا علم نہ ہو۔

ڈاکٹر زغبی نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ زیادہ تر مریض اس سے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن شدید ذہنی دباؤ یا غیر معمولی جوش و خروش بعض اوقات دل کے لیے خطرناک پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے فٹ بال کے تمام شائقین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ، خواہ صحت مند ہوں یا دل کے مریض، میچوں کے دوران اپنے دل کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ کھیل سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور سگریٹ نوشی سے پرہیز انتہائی ضروری ہے تاکہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں اور ٹیم کی حوصلہ افزائی کا یہ تجربہ صحت کے لیے محفوظ اور خوشگوار ثابت ہو۔

یاد رکھیں میچ دیکھنا خود خطرناک نہیں، لیکن ضرورت سے زیادہ جذباتی دباؤ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ میچ کے دوران پرسکون رہنا، پانی پینا، بہت زیادہ شور اور غصے سے بچنا اور اپنی صحت کی حالت کو نظر میں رکھنا بہتر ہے۔

دل کے مریضوں کو خاص طور پر مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر میچ دیکھتے ہوئے سینے میں درد، سانس لینے میں مشکل، چکر یا غیر معمولی دھڑکن محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں اور فوری طبی مدد حاصل کریں۔

فٹبال کا جوش کھیل کا حسن ہے، لیکن دل کی حفاظت کے لیے خوشی اور غصے دونوں کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔

Read Comments