کیا میسی کو بچانے کے لیے مصر کو ہرایا گیا؟ ورلڈ کپ میچ میں نئے تنازع نے سر اٹھا لیا

مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ شاید کچھ حلقے چاہتے تھے کہ لیونل میسی کی موجودگی ورلڈ کپ میں برقرار رہے۔
شائع 08 جولائ 2026 02:19pm

فیفا ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا نے مصر کو 3-2 سے شکست دے کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا، تاہم اس میچ کے بعد ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کے ایک متنازع فیصلے نے بڑے پیمانے پر بحث چھیڑ دی ہے۔ فٹبال ماہرین، مبصرین اور مصر کی ٹیم نے میچ کے بعض فیصلوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کی شفافیت اور غیر جانبداری پر تشویش ظاہر کی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب مصر نے میچ میں اپنا دوسرا گول کیا، لیکن کچھ دیر بعد وی اے آر کی مداخلت پر اس گول کو منسوخ کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد میچ کا رخ بدل گیا اور ارجنٹینا نے واپسی کرتے ہوئے 3-2 سے کامیابی حاصل کر لی۔

اس سے ایک روز قبل بھی ورلڈ کپ میں ایک اور تنازع سامنے آیا تھا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے فیفا سے امریکہ کے فارورڈ فولارن بالوگن کی ایک میچ کی معطلی پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔ بعد ازاں فیفا نے یہ معطلی ختم کر دی، جس کے باعث بالوگن اگلا میچ کھیلنے کے قابل ہوئے، اگرچہ امریکہ کو اس میچ میں بیلجیئم کے ہاتھوں 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے ارجنٹینا کے خلاف شکست کے بعد شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہوا جیسے عالمی چیمپئن ٹیم کو ہر ممکن مدد فراہم کی گئی تاکہ وہ ٹورنامنٹ میں برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید کچھ حلقے چاہتے تھے کہ لیونل میسی کی موجودگی ورلڈ کپ میں برقرار رہے کیونکہ وہ دنیا کے بڑے فٹبال ستاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

حسام حسن نے مزید کہا کہ فٹبال میں بعض اوقات ایسے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں جو صرف کھیل تک محدود نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق انہیں لگا کہ میچ کے دوران کچھ فیصلے ارجنٹینا کے حق میں گئے۔

کھیل اور سیاست کے تعلق پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ شنگھائی میں ایملیون بزنس اسکول کے کھیلوں کے ماہر پروفیسر سائمن چیڈوک نے کہا کہ حالیہ تنازعات کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کون سے فیصلے واقعی غیر جانبدار ہیں اور کن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی حکومت ورلڈ کپ کے معاملات پر نظر رکھ رہی ہے تو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ارجنٹینا کے صدر جیویر میلی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سیاسی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

چیڈوک نے یہ بھی رائے دی کہ حسام حسن کی جانب سے فلسطین، خصوصاً غزہ کے عوام کے حق میں کھل کر اظہارِ یکجہتی بھی ممکنہ طور پر بعض حلقوں کے رویوں پر اثر انداز ہوئی ہو، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا۔

وی اے آر کے متنازع فیصلے پر بات کرتے ہوئے چیڈوک نے کہا کہ حیرت کی بات یہ تھی کہ ریفری نے کھیل کے دوران فوری طور پر کوئی فاؤل قرار نہیں دیا، لیکن مصر کے گول کے بعد وی اے آر نے کئی لمحے پہلے ہونے والے واقعے کا جائزہ لے کر گول منسوخ کر دیا۔ ان کے مطابق بعد میں ارجنٹینا کے ایک گول سے پہلے بھی ایسا واقعہ پیش آیا جسے بعض لوگ اسی نوعیت کی خلاف ورزی قرار دے سکتے تھے، مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کم از کم ریفری کے فیصلوں میں یکسانیت دکھائی نہیں دی۔

دوسری جانب بعض فٹبال تجزیہ کاروں نے اس معاملے پر نسبتاً محتاط رائے دی۔ فٹبال تجزیہ کار علی الغرنی کے مطابق مصر کو ”لوٹا گیا“ کہنا شاید مناسب نہ ہو، تاہم ان کے خیال میں میچ کے تمام قریب ترین فیصلے ارجنٹینا کے حق میں گئے۔ انہوں نے کہا کہ مصر کے منسوخ کیے گئے گول سے پہلے فاؤل موجود تھا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وی اے آر کو گول سے پہلے کتنی دیر پیچھے جا کر کھیل کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہی صورتحال ارجنٹینا کے حق میں ہوتی تو کیا وی اے آر اسی طرح مداخلت کرتا؟ ان کے مطابق ایسا ہونا کم ہی ممکن دکھائی دیتا ہے۔

علی الغرنی نے مزید کہا کہ مصر کی ناراضی اس لیے بھی بڑھی کیونکہ ارجنٹینا کے تیسرے گول سے پہلے مصر کے اسٹار کھلاڑی محمد صلاح کے خلاف بھی بظاہر فاؤل ہوا تھا، لیکن اس موقع پر وی اے آر نے کوئی مداخلت نہیں کی۔

سائمن چیڈوک نے تجویز دی کہ وی اے آر کے متنازع فیصلوں پر شفافیت بڑھانے کے لیے شائقین کو یہ سننے کا موقع ملنا چاہیے کہ ریفری اور وی اے آر حکام نے کس بنیاد پر فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق اس سے غلط فہمیوں میں کمی آئے گی اور عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مصر کے کھلاڑیوں کو جذبات پر قابو رکھنا چاہیے تھا، لیکن وی اے آر کے فیصلے نے ان میں ناانصافی کا احساس پیدا کیا۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی شکوک کم کرنے اور فیصلوں میں یکسانیت لانے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، لیکن اس میچ میں اس کے استعمال نے مزید تنازع پیدا کر دیا۔

البتہ چیڈوک نے ان افواہوں کو مسترد کیا کہ میچ میں جان بوجھ کر ارجنٹینا یا لیونل میسی کے حق میں نتائج مرتب کیے گئے۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میسی ورلڈ کپ کی سب سے بڑی عالمی شخصیات میں سے ایک ہیں اور ان کی موجودگی ٹورنامنٹ کی مقبولیت کے لیے بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔

Read Comments