ہاتھی نے ایک ہی خاندان کے چار افراد ڈھونڈ ڈھونڈ کر مار ڈالے
نیپال کے چتوان نیشنل پارک سے نکلنے والا خطرناک جنگلی ہاتھی ”دھوربے“ گزشتہ 14 برس سے ایک ہی خاندان کے لیے خوف کی علامت بنا ہوا ہے۔ اس ہاتھی نے 2012 میں میاں بیوی کو ہلاک کیا تھا اور اب 2026 میں اسی خاندان کے مزید دو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جس کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد اس کے حملوں میں جان گنوا چکے ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق دھوربے اب تک کم از کم 25 افراد کو ہلاک کر چکا ہے، جس کے باعث اسے نیپال کا خطرناک ترین جنگلی ہاتھی قرار دیا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مادی کے رہائشی شانچارا بوٹے کے لیے یہ سانحہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں جب 16 دسمبر2012 کو اسی ہاتھی نے ان کے والد بدھیرام بوٹے اور والدہ جھرالی بوٹے پر حملہ کرکے انہیں ہلاک کر دیا تھا۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد شانچارا نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل کرے گا۔ جنگلی ہاتھیوں کے مسلسل خطرے کے باعث اس نے اپنا آبائی گھر فروخت کر دیا اور ریو اور راپتی دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے تقریباً 30 کلومیٹر دور جگت پور میں نئی زندگی شروع کی۔
خاندان کو یقین تھا کہ اتنے فاصلے پر منتقل ہونے کے بعد وہ محفوظ رہیں گے، لیکن 14 برس بعد وہی ہاتھی جگت پور بھی پہنچ گیا اور چند دن پہلے یعنی 28 جون کو، جب رات کو شانچارا بوٹے کے گھر والے سو رہے تھے کہ آدھی رات کے وقت دھوربے نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا۔ ہاتھی نے کچے مکان کی دیواریں توڑ ڈالیں۔
شانچارا بوٹے کے مطابق جب ان کی 25 سالہ بہو اشیکا بوٹے اپنے چار سالہ بیٹے بھرت بوٹے کو گود میں اٹھا کر گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی تو ہاتھی نے دونوں کو اپنی زد میں لے کر کچل ڈالا اور موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔
اور یوں اس افسوسناک واقعے کے بعد شانچارا بوٹے کے خاندان کے 4 افراد ایک ہی ہاتھی کے حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد موجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
بیوی کی حاضر دماغی نے باقی خاندان کو بچا لیا
اس میں شانچارا کی اہلیہ منگلی بوٹے کی حاضر دماغی کام آگئی۔ اس نے جان پر کھیل کر برآمدے میں رکھی خشک گھاس کو آگ لگا دی، جس کے شعلے دیکھ کر ہاتھی وہاں سے بھاگ گیا۔ اگرچہ آگ لگنے سے مکان کو بھی نقصان پہنچا، تاہم اسی اقدام سے خاندان کے باقی افراد کی جانیں بچ گئیں۔
چتوان نیشنل پارک کے مطابق دھوربے نے پہلی مرتبہ 2010 میں انسانی آبادیوں پر حملے شروع کیے تھے۔ اس کے بعد سے وہ کم از کم 25 افراد کو ہلاک کر چکا ہے، جن میں پارک کی حفاظت پر مامور دو فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
پارک کے انفارمیشن آفیسر ابھیناش تھاپا مگر کے مطابق واقعے سے قبل دھوربے کے حملوں میں 23 افراد ہلاک ہو چکے تھے، جبکہ جگت پور میں ہونے والی حالیہ دو ہلاکتوں کے بعد مجموعی تعداد 25 ہو گئی ہے۔
2012 میں شانچارا بوٹے کے والدین کی ہلاکت کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی اجلاس میں دھوربے کو مارنے کا فیصلہ کیا تھا اورکئی بار اسے مارنے کی کوشش، مگر ہر مرتبہ بچ نکلا۔ نیپالی فوج اور پارک حکام نے تقریباً دو ہفتے تک جنگل میں اس کی تلاش کی اور دو مختلف مواقع پر اسے گولیاں بھی ماریں۔کئی بار مارنے کی کوشش، مگر ہر مرتبہ بچ نکلا
شدید زخمی ہونے کے باوجود ہاتھی گھنے جنگل میں فرار ہوگیا۔ اس کارروائی پر حکومت کو تقریباً 16 لاکھ نیپالی روپے خرچ کرنا پڑے۔ بعد میں حکام نے سمجھا کہ ہاتھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر چکا ہے، لیکن 2016 میں وہ دوبارہ چتوان کے مغربی علاقوں میں نمودار ہوگیا۔
پارک حکام نے دھوربے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے 2012، 2020 اور پھر 2023 میں اس کی گردن میں جدید سیٹلائٹ کالر نصب کیے، جو ہر گھنٹے بعد اس کی درست لوکیشن کنٹرول روم کو بھیجتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جب بھی ہاتھی آبادی کی طرف بڑھتا ہے تو پارک کے اہلکار اور نیپالی فوج مشترکہ کارروائی کرکے اسے واپس جنگل کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن شاید موجودہ نظام میں اب بھی سنگین خامیاں موجود ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھوربے گزشتہ کئی دنوں سے آبادی کے قریب دیکھا جا رہا تھا اور اس کی نقل و حرکت سے حکام پہلے ہی آگاہ تھے، لیکن مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے راپتی پل بند کرکے احتجاج کیا اور پارک انتظامیہ پر غفلت کا الزام عائد کیا۔
ہاتھی آخر اتنا خطرناک کیوں بن گیا؟
جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق بالغ نر ہاتھیوں کو ایک عمر کے بعد ان کے غول سے الگ کر دیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتے ہیں۔ بعض اوقات یہی تنہائی اور خوراک کی تلاش انہیں انسانی آبادیوں کی طرف لے آتی ہے، جہاں وہ انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ دھوربے کو بھی اسی نوعیت کا ایک ”روگ ایلیفنٹ“ یا بے قابو جنگلی ہاتھی قرار دیا جاتا ہے۔
مقامی آبادی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے مؤثر انتظام، محفوظ نقل و حرکت کے راستوں، ابتدائی وارننگ سسٹم اور مقامی آبادی کی آگاہی کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔