اینکر مرید عباس قتل کیس کا 7 سال بعد فیصلہ؛ مرکزی مجرم کو دو بار سزائے موت کا حکم

عدالت نے کیس میں شریک ملزم عادل زمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں
اپ ڈیٹ 09 جولائ 2026 03:18pm

کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت ساؤتھ نے اینکر پرسن مرید عباس قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرم عاطف زمان کو دو مرتبہ سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق سیشن عدالت نے اس کیس میں شریک ملزم عادل زمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں، جو کہ تاحال مفرور ہے۔

عادل زمان ضمانت مسترد ہونے کے بعد ستمبر 2020 میں فرار ہو گیا تھا، جس کے بعد سے ٹرائل کورٹ نے اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔

اینکر پرسن مرید عباس قتل کیس کا فیصلہ وقوعے کے تقریباً سات سال بعد سنایا گیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے ملزمان کے خلاف شواہد پیش کیے گئے، جبکہ عدالت نے تمام دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد مرکزی ملزم عاطف زمان کو قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔

عدالت نے ملزم کو پانچ، پانچ لاکھ روپے مقتولین کے ورثاء کو ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق عاطف زمان کو دو افراد کے قتل کے جرم میں دو بار سزائے موت دی گئی ہے، جبکہ اس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ ہائی پروفائل واقعہ نو جولائی 2019 کو پیش آیا تھا، جب کراچی کے علاقے ڈیفنس میں کاروباری لین دین کے تنازع پر ٹی وی اینکر مرید عباس اور خضر حیات کو ملزم عاطف زمان اور اس کے بھائی عادل زمان نے فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

قتل کیسے اور کیوں ہوا؟

مرید عباس کی اہلیہ زارا عباس نے پولیس کو بتایا تھا کہ ”چند سال پہلے ایک دوست کے ذریعے مرید کی ملاقات عاطف زمان سے ہوئی تھی، کیونکہ مرید ٹی وی اینکر تھے اور ان کے لوگوں کے ساتھ تعلقات تھے، اس لیے عاطف نے دوستی بڑھائی“۔

انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ یہ دوستی اتنی گہری ہو گئی کہ دونوں نے ڈیفنس میں ایک ہی جگہ اپنے فلیٹ بک کروائے. مرید عباس کے ذریعے ان کے ایک اور دوست عمر رحمان بھی اس کاروبار میں شامل ہو گئے.

عمر رحمان نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ ”سال 2016 میں مرید نے مجھے عاطف زمان کے ٹائروں کے کاروبار کے بارے میں بتایا اور میں نے مرید کے ذریعے عاطف کو 21 لاکھ روپے دیے“.

انہوں نے کہا کہ شروع میں عاطف ہر دو ماہ بعد 12 سے 13 ہزار روپے منافع دیتا رہا، جس سے بھروسہ بڑھ گیا۔ جس کے بعدعمر رحمان نے مزید 40 لاکھ روپے اکھٹے کر کے مرید کو دے دیے.

عمر رحمان کے ماطبق، جیسے جیسے کاروبار بڑھا، عاطف زمان نے ڈیفنس فیز ٹو میں ایک دفتر بنا لیا جہاں مرید عباس، عمر رحمان اور دیگر سرمایہ کاروں کا آنا جانا شروع ہو گیا.

اس دفتر میں عاطف کا بھائی عادل زمان اور ایک آفس بوائے عدنان بھی ہوتے تھے. عاطف نے وہاں ایاز شوکت اور ان کی بیوی صدف ایاز سے بھی سب کو ملوایا اور کہا کہ یہ نوکری چھوڑ کر ہمارے ساتھ کمپنی کھول رہے ہیں.

عمر رحمان کے مطابق، منافع کے لالچ میں انہوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی یعنی چھ سے سات کروڑ روپے عاطف کی کمپنی میں لگا دیے اور وہ سب ایک ہی بڑے دفتر میں بیٹھنے لگے، جہاں مرید عباس اور خضر حیات روزانہ آتے تھے.

انہوں نے مزید کہا کہ سال 2019 کے شروع میں عاطف زمان نے منافع دینا کم کر دیا اور رمضان کے مہینے میں تو بالکل ہی بند کر دیا. جب سرمایہ کاروں نے پیسوں کا تقاضا کیا تو جولائی کے پہلے ہفتے میں ایک میٹنگ ہوئی.

عمر رحمان کے مطابق ”میٹنگ میں عاطف نے بتایا کہ وہ حب چوکی جا رہا ہے، وہاں سے اسے 20 کروڑ روپے ملیں گے جو وہ سب کو دے گا. لیکن جب وہ واپس آیا تو اس نے نیا بہانہ بنایا کہ میرے پیسے ایف آئی اے والوں نے پکڑ لیے ہیں، وہ منگل یا بدھ کو پیسوں کا بندوبست کرے گا، جس پر خضر حیات کی عاطف سے سخت لڑائی بھی ہوئی.“

عمر رحمان نے مزید بتایا کہ نو جولائی کے دن عاطف زمان نے سب کو پیسے دینے کے بہانے اپنے دفتر بلایا. اس نے جاتے ہوئے اپنے آفس بوائے اسامہ سے کہا کہ آج آفس بند نہیں کرنا، نو بجے پیمنٹ آنی ہے.

پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق، شام کو عاطف نے عمر رحمان اور مرید عباس کو فون کر کے کہا کہ تم دونوں آفس آ جاؤ تاکہ تمہیں پیسے دوں. جب وہ دونوں دفتر پہنچے تو تھوڑی دیر بعد عاطف زمان اپنے بھائی عادل کے ساتھ وہاں آیا، اور اس کے ہاتھ میں پستول تھی. عمر رحمان نے جب پستول دیکھی اور پوچھا کہ یہ کیوں رکھی ہے تو عاطف نے کہا کہ بڑی پیمنٹ ہے اس لیے رکھی ہے. اسی دوران مرید عباس واش روم سے باہر آئے تو عاطف نے پستول تان کر کہا کہ آپ کو پیسے چاہییں؟ اور یہ کہہ کر فائرنگ کر دی، جس سے مرید عباس موقع پر ہی ڈھیر ہو گئے.

بیان کے مطابق، عاطف نے عمر رحمان پر بھی گولی چلانے کی کوشش کی لیکن پستول میں گولی پھنس گئی، جس کا فائدہ اٹھا کر عمر رحمان اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگ نکلے.

مرید عباس کی اہلیہ زارا عباس نے بتایا کہ ”مجھے مرید نے فون پر بتایا تھا کہ عاطف نے 50 لاکھ روپے دینے کے لیے بلایا ہے“، لیکن جب وہ دفتر پہنچیں تو ان کے شوہر خون میں لت پت پڑے تھے.

مرید عباس کو قتل کرنے کے فوراً بعد عاطف زمان نے اپنے دوسرے ساجھے دار خضر حیات کو بھی ڈیفنس میں ایک خالی پلاٹ کے پاس پیسے دینے کے بہانے بلایا. خضر حیات جیسے ہی اس کی گاڑی کے قریب پہنچے، عاطف نے ان پر بھی اندھا دھند فائرنگ کر دی. خضر کو اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے.

پولیس کے مطابق، دونوں دوستوں کو قتل کرنے کے بعد عاطف زمان نے خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بچ گیا اور پولیس نے اسے اسپتال سے گرفتار کر لیا.

پولیس تفتیش میں معلوم ہوا کہ جس پستول سے قتل کیے گئے، وہ اس کے بھائی عادل زمان کا لائسنس یافتہ اسلحہ تھا.

پولیس افسر طارق دھاریجو نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ عاطف زمان جب کاروبار میں بری طرح پھنس گیا تو اس نے پانچ لوگوں کو قتل کرنے کا پلان بنایا تھا.

عاطف نے پولیس کو دیے گئے بیان میں دعویٰ کیا کہ ”قتل سے ایک ہفتہ پہلے خضر حیات اور مرید عباس نے دفتر میں پیسوں کے تکرار کے دوران میری بیوی اور بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر رقم فوری نہیں ملی تو بیوی بچے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے“، جس کے خوف سے اس نے اپنے خاندان کو پہلے ہی شہر سے باہر بھیج دیا تھا.

Read Comments