اینکر مرید عباس قتل کیس کا 7 سال بعد فیصلہ؛ مفرور مرکزی ملزم کو دو بار سزائے موت کا حکم

عدالت نے کیس میں شریک ملزم عادل زمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں
اپ ڈیٹ 09 جولائ 2026 02:16pm

کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت ساؤتھ نے اینکر پرسن مرید عباس قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عاطف زمان کو دو مرتبہ سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق سیشن عدالت نے اس کیس میں شریک ملزم عادل زمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔

عدالت کے مطابق عادل زمان ضمانت مسترد ہونے کے بعد فرار ہو گیا تھا، جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔

اینکر پرسن مرید عباس قتل کیس کا فیصلہ وقوعے کے تقریباً 7 سال بعد سنایا گیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے ملزمان کے خلاف شواہد پیش کیے گئے، جبکہ عدالت نے تمام دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد مرکزی ملزم عاطف زمان کو قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔

عدالت نے ملزم کو 5، 5 لاکھ روپے مقتولین کے ورثاء کو ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق عاطف زمان کو دو افراد کے قتل کے جرم میں دو بار سزائے موت دی گئی ہے، جبکہ اس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ ہائی پروفائل واقعہ 9 جولائی 2019 کو پیش آیا تھا، جب کراچی کے علاقے ڈیفنس میں کاروباری لین دین کے تنازع پر ٹی وی اینکر مرید عباس اور خضر حیات کو ملزم عاطف زمان اور اس کے بھائی عادل زمان نے فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔