تاریخی فن پارہ ہزار برس بعد فرانس سے خفیہ مشن کے تحت برطانیہ پہنچ گیا

70 میٹر طویل اس تاریخی فن پارے کو انتہائی سخت سیکورٹی کے تحت راتوں رات لندن کے برٹش میوزیم منتقل کیا گیا۔
شائع 10 جولائ 2026 02:32pm

برطانیہ اور فرانس کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے کیونکہ قرون وسطی کا ایک انمول اور دنیا بھر میں مشہور فن پارہ بایو ٹیپسٹری تقریباً ایک ہزار سال بعد پہلی بار فرانس سے برطانیہ پہنچا دیا گیا ہے۔

70 میٹر طویل اس تاریخی فن پارے کو انتہائی سخت سیکورٹی اور خفیہ مشن کے تحت راتوں رات لندن کے برٹش میوزیم منتقل کیا گیا۔ اس سفر کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتہائی صیغہ راز میں رکھا گیا تھا اور گاڑیوں کے ایک مخصوص قافلے نے پولیس کی نگرانی میں اسے بحفاظت پہنچایا۔

یہ فن پارہ اون کے دھاگوں اور کپڑے کی مدد سے تیار کیا گیا ہے جس پر کڑھائی کے ذریعے دونوں ممالک کی مشترکہ اور خونی تاریخ کو بڑی مہارت سے دکھایا گیا ہے۔ اس تاریخی شاہکار کو پہلی بار تقریباً 1000 برس بعد برطانیہ لایا گیا ہے۔ اسے برٹش میوزیم میں 10 ستمبر سے نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق اس پر درج درجنوں مناظر میں سنہ 1066 کی اس مشہور جنگ کی منظر کشی کی گئی ہے جس میں فرانس کے علاقے نارمنڈی کے حکمران ولیم نے انگلینڈ کے بادشاہ کو شکست دے کر وہاں اپنی حکومت قائم کی تھی، اس فتح نے انگلینڈ کی سیاست، قانون، زبان اور ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے، اسی لیے بایو ٹیپسٹری کو برطانیہ اور فرانس دونوں کے لیے غیرمعمولی تاریخی اہمیت حاصل ہے۔

اس میں جنگِ ہیسٹنگز سمیت اس دور کے 58 اہم تاریخی مناظر دکھائے گئے ہیں۔ تاریخ دان اس ٹیپسٹری کو محض ایک فن پارہ نہیں بلکہ قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم بصری ریکارڈ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس دور کے اہم واقعات کو اسی کے ذریعے محفوظ کیا گیا۔

اس تاریخی شاہکار کی برطانیہ منتقلی کی ایک عملی وجہ فرانس کے شہر بایو میں واقع اس میوزیم کی مرمت اور تزئین و آرائش بھی ہے جہاں یہ کئی صدیوں سے رکھی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس قرض پر دی جانے والی نمائش کو فرانس اور برطانیہ کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بریگزٹ کے بعد دونوں ممالک اپنے باہمی روابط مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون بھی اس منتقلی کو دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت قرار دے چکے ہیں۔

اس ثقافتی تبادلے کے تحت برٹش میوزیم بھی فرانس کو اینگلو سیکسن دور کے مشہور اسٹن ہو آثارِ قدیمہ عارضی نمائش کے لیے فراہم کرے گا۔

برٹش میوزیم کے ڈائریکٹر نکولس کلینن نے ایک بیان میں کہا کہ ٹیپسٹری کو میوزیم پہنچتے دیکھنا ان کے لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں نمائش کی تیاری مکمل ہونے اور ستمبر میں پہلے زائرین کا استقبال کرنے کے منتظر ہیں۔

برٹش میوزیم کے مطابق نمائش کے تمام ٹکٹ پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔ میوزیم کو اب تک ٹکٹوں کی فروخت سے تقریباً 25 لاکھ پاؤنڈ، یعنی لگ بھگ 33 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کی آمدنی ہو چکی ہے، جو برٹش میوزیم کی تاریخ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی نمائش قرار دی جا رہی ہے۔

بایو ٹیپسٹری جولائی 2027 تک برٹش میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی جائے گی، جس کے بعد اسے دوبارہ فرانس واپس منتقل کر دیا جائے گا۔

Read Comments