دانت کے درد کا علاج کروانے والا شخص بارہ دانت کھو بیٹھا، انکوائری شروع
چین میں ایک دانت کے درد کا علاج کروانے ہسپتال پہنچنے والے شخص کے بارہ دانت نکال دیے گئے، معاملہ قابو سے باہر ہونے پر سرکار نے تفتیش شروع کر دی۔
گلف نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے مشرقی علاقے سے ایک ایسا عجیب و غریب اور حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 63 سالہ بزرگ شہری اپنے منہ کے صرف ایک دانت میں درد کا علاج کروانے کے لیے نجی کلینک گیا تھا، لیکن جب وہ وہاں سے باہر آیا تو ڈاکٹر اس کے منہ کے بارہ دانت اکھاڑ چکے تھے۔
اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد اب سرکاری محکموں نے اس نجی کلینک کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی اور تفتیش شروع کر دی ہے۔
چین کے صوبے انہوئی کے صحت کے محکمے کے بڑے افسران نے اس کلینک کو سخت حکم دیا ہے کہ وہ مریض سے لیے گئے علاج کے تمام پیسے فوراً واپس کرے اور اپنے کام کرنے کے طریقے کو درست کرے۔
سرکاری افسران نےدوران تفشیش پایا کہ کلینک نے اس بوڑھے آدمی کا اس کی ضرورت اور مرضی سے بہت زیادہ بڑا آپریشن کر دیا جو کہ سراسر غلط تھا۔ اس واقعے نے پورے چین میں نجی کلینکوں کے علاج کے طور طریقوں اور ان کی نیت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ بوڑھا مریض کلینک میں صرف ایک دانت کے درد کی شکایت لے کر پہنچا تھا۔ وہاں موجود ڈاکٹروں نے معائنے کے دوران اسے مشورہ دیا کہ اسے ایک نہیں بلکہ بہت بڑے علاج کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹروں کی باتوں میں آ کر جب علاج شروع ہوا تو کلینک سے فارغ ہونے تک اس کے بارہ دانت منہ سے نکالے جا چکے تھے۔ بعد میں جب اس شخص کو ہوش آیا تو اس نے خود سے یہ سوال کیا کہ کیا واقعی اتنے سارے دانت نکالنا ضروری تھا یا اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔
اس نے ہار ماننے کے بجائے سرکاری محکمے میں شکایت درج کرائی، جس پر ایکشن لیتے ہوئے افسران نے کلینک کو اپنے طور طریقے سدھارنے کی ہدایت جاری کی۔ تاہم، ابھی تک سرکار نے یہ نہیں بتایا کہ اس لاپرواہ ڈاکٹر کو نوکری سے نکالا جائے گا یا کوئی اور سزا دی جائے گی۔
چینی سوشل میڈیا پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس نے لوگوں کو پچھلے سال کا ایک ایسا ہی خوفناک واقعہ یاد دلا دیا۔ 2024 میں چین میں ہی ایک مریض کے ایک ہی بار میں تئیس دانت نکالے گئے تھے اور بارہ نئے دانت لگائے گئے تھے، جس کے بعد اس مریض کی موت ہو گئی تھی۔ اس دردناک واقعے کے بعد نجی کلینکوں کی من مانی پر بہت زیادہ شور مچا تھا اور لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ایسے ڈاکٹروں پر سخت نظر رکھی جائے۔
مارین دندان ساز کا کہنا ہے کہ قانون میں ایسا کوئی فکس نمبر نہیں لکھا کہ ایک بار میں کتنے دانت نکالے جا سکتے ہیں۔ یہ سب مریض کی صحت، اس کے دانتوں کی حالت اور مجبوری کو دیکھ کر طے کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک ساتھ زیادہ دانت نکالنے سے منہ سے بہت زیادہ خون بہنے، انفیکشن ہونے اور زخم سوکھنے میں بہت زیادہ وقت لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں چین میں نجی ڈینٹل کلینکس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، کیونکہ دانتوں کے امپلانٹس، کاسمیٹک علاج اور جدید ڈینٹل سہولیات کی مانگ بڑھی ہے۔ اسی کے ساتھ حکام پر یہ دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مریضوں کو صرف وہی علاج تجویز کیا جائے جس کی واقعی طبی ضرورت ہو، نہ کہ تجارتی فائدے کے لیے۔
اب سرکاری افسران اس بات کی گہرائی سے تفتیش کر رہے ہیں کہ کیا یہ علاج ڈاکٹری اصولوں کے مطابق ہوا تھا یا نہیں، تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔