'ٹی ریکس' ڈائنوسار کا ڈھانچہ کبھی دوبارہ نہ دکھنے کے لیے ریکارڈ قیمت میں فروخت

یہ ٹی ریکس ڈھانچہ تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ سال پرانا ہے۔
اپ ڈیٹ 15 جولائ 2026 03:41pm

امریکی شہر نیو یارک میں کروڑوں سال پرانے ایک دیوقامت ڈائنوسار کے ڈھانچے نے نیلامی کی دنیا میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یہ ڈھانچہ ٹی ریکس نسل کے ایک خوفناک ڈائنوسار کا ہے جو کروڑوں سال پہلے ہماری زمین پر راج کیا کرتے تھے۔ اس نایاب ڈھانچے کو 50 لاکھ نہیں بلکہ 5 کروڑ 13 لاکھ ڈالر سے زائد میں فروخت کیا گیا، جس کے بعد یہ دنیا کی تاریخ میں نیلام ہونے والا سب سے مہنگا فوسل بن گیا ہے۔

سی این این میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس ڈھانچے کو پیار سے ’گس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نام ساؤتھ ڈکوٹا کے ایک عام زمیندار گیری گس لکنگ کے نام پر رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ ہڈیاں انہی کی زمین سے ملی تھیں۔ بدقسمتی سے گیری گس لکنگ 2022 میں فوت گئے تھے، جب اس ڈھانچے کو زمین سے نکالنے کا کام شروع ہوئے صرف ایک سال ہی ہوا تھا۔

نیلام ہونے والا یہ ٹی ریکس ڈھانچہ تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ سال پرانا ہے۔ یہ 38 فٹ لمبا اور ساڑھے 12 فٹ اونچا ہے، جبکہ اس کی کھوپڑی تقریباً 54 انچ لمبی ہے۔

نیلامی کرنے والے ادارے سوتھبیز کے مطابق اس ڈھانچے میں 183 فوسل ہڈیوں کے حصے شامل ہیں۔ ہڈیوں کی تعداد کے حساب سے یہ تقریباً 61 فیصد مکمل ہے، جبکہ وزن کے حساب سے اس کی تکمیل 75 سے 80 فیصد تک بنتی ہے۔ اس کی دریافت کا کام 2021 سے 2023 تک تین مختلف مراحل میں کیا گیا، جس کے بعد مزید تین سال لیبارٹری میں ہڈیوں کی صفائی، مرمت اور انہیں مکمل ڈھانچے کی شکل دینے میں لگے۔

سوتھیبیز کے نمائندے نے اس کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ، گس نامی یہ ڈھانچہ اب تک ملنے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کے ڈھانچوں میں سے ایک ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ، اس ڈھانچے میں ڈائنوسار کے دونوں پاؤں کی ہڈیاں بھی موجود ہیں، جو کہ عام طور پر بالکل غائب ہو جاتی ہیں اور یہ دنیا کا صرف دوسرا ایسا ڈھانچہ ہے جس میں دونوں پاؤں اتنی اچھی حالت میں ملے ہیں۔

اس ڈائنوسار کی ہڈیوں پر لڑائی کے دوران لگنے والے دانتوں کے نشانات اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے جڑنے کے ثبوت بھی ملے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اپنی زندگی میں کئی خطرناک حادثات سے بچ نکلا تھا۔

اس سے پہلے سب سے مہنگا فروخت ہونے والا ڈائنوسار فوسل ”ایپکس“ نامی اسٹیگوسورس کا ڈھانچہ تھا، جسے 2024 میں ارب پتی کین گرفن نے 4 کروڑ 46 لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔ اس وقت یہ ڈھانچہ نیویارک کے میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں چار سالہ قرضی معاہدے کے تحت رکھا گیا ہے۔

لیکن اس نئے سودے نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ گس کی نیلامی سے پہلے اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ 2 سے 3 کروڑ ڈالر میں فروخت ہو سکتا ہے، لیکن کامیاب بولی ایک نامعلوم خریدار نے فون کے ذریعے لگائی اور 5 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ رقم ادا کر دی۔ خریدار کی شناخت ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

جہاں اس تاریخی ڈھانچے کی فروخت نے نیلامی کی دنیا میں دھوم مچا دی ہے، وہاں سائنسدانوں میں ایک خاموش پریشانی بھی دیکھی جا رہی ہے۔ سائنس کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب کوئی اتنی نایاب چیز کسی امیر شخص کے ذاتی قبضے میں چلی جاتی ہے، تو وہ سائنس کے مطالعے اور عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے۔

سائنسدانوں نے اس حوالے سے اپنی فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، جب کوئی ڈھانچہ کسی کی ذاتی ملکیت بن جاتا ہے تو اس پر سائنسی تحقیق کرنا اور پرانی دنیا کے رازوں سے پردہ اٹھانا ناممکن ہو جاتا ہے، کیونکہ سائنسی ادارے صرف اسی چیز پر تحقیق کو درست مانتے ہیں جو سب کے لیے کھلے عجائب گھروں میں موجود ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گس جیسے فوسلز عجائب گھروں میں رکھے جائیں تو دنیا بھر کے سائنسدان ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں اور عام لوگ بھی کروڑوں سال پرانی تاریخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب گس کے خریدار کے پاس اس فوسل کے مکمل حقوق موجود ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ چاہے تو اس کے ماڈل تیار کروا کر عجائب گھروں یا نجی خریداروں کو فراہم کر سکتا ہے۔

اب سب کی نظریں اسی نامعلوم خریدار پر ہیں کہ وہ دنیا کے مہنگے ترین ڈائنوسار ڈھانچے کے ساتھ کیا فیصلہ کرتا ہے۔ آیا وہ اس قیمتی ڈھانچے کو کسی عجائب گھر کے حوالے کرتا ہے تاکہ عام لوگ اور بچے اسے دیکھ سکیں، یا پھر وہ اسے اپنے گھر کی زینت بنا کر دنیا کی نظروں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل کر دیتا ہے۔

Read Comments