گوجرانولہ میں 250 ملی میٹر بارش کے بعد سیلابی صورتحال، ہزارہ ڈویژن میں پہاڑوں پر لینڈ سلائیڈنگ
پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں 250 ملی میٹر بارش کے بعد سیلابی صورت حال ہے، اس کے علاوہ ملک کے بالائی حصوں بالخصوص خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر میں بھی سیلاب ریلے گزر رہے ہیں جب کہ ہزاره ڈویژن میں موسلا دھار بارشوں سے 3 رابطہ پل بہہ گئے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم راستے بند ہو چکے ہیں، پشاور سمیت کئی اضلاع میں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا جب کہ بارش کے باعث بجلی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گوجرانوالہ میں سب سے زیادہ 250 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث شہر کی متعدد شاہراہیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں۔
گجرات میں بھی 150 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جہاں مختلف علاقے زیر آب آ گئے۔ کچہری چوک، جناح چوک، علی پورہ روڈ، پرنس چوک، جلالپور جٹاں روڈ اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، جس سے ہر طرف دریاؤں جیسا منظر دکھائی دیا۔
لاہور میں صبح سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جب کہ رائیونڈ میں موسلادھار بارش کے باعث ریلوے روڈ سمیت متعدد علاقے زیر آب آ گئے۔ بارش کا پانی اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) رائیونڈ کے دفتر میں بھی داخل ہوگیا۔
لاہور میں بارش کے باعث گلشن بند روڈ پر واقع بوتلیں بنانے والی ایک فیکٹری کی ٹی آر گارڈر سے بنی چھت اچانک منہدم ہوگئی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق تقریباً پانچ مرلہ رقبے پر قائم فیکٹری کی چھت گرنے سے چار افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی اور امدادی کارروائی کے دوران چاروں زخمیوں کو زندہ ملبے سے نکال کر ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا۔
پاکپتن میں بارش کے دوران ایک گھر کی چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق جب کہ ان کی والدہ شدید زخمی ہوگئیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 7 سالہ بچہ عثمان اور 9 سالہ نور فاطمہ بچی شامل ہیں جب کہ بچوں کی ماں کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
کامونکی میں تیز بارش کے باعث گلیاں، سڑکیں اور بازار تالاب کا منظر پیش کرنے لگے جب کہ ایک انڈر پاس مکمل طور پر پانی سے بھر گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق 12 سالہ بچہ انڈر پاس میں جمع پانی میں ڈوب گیا، جس کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔
راولپنڈی میں موسلادھار بارش کے باعث متعدد علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جبکہ روات کے علاقے بروالہ گاؤں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی اور آبادی زیر آب آگئی۔ وزیرآباد میں گزشتہ رات سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جب کہ دریائے چناب میں ہیڈ خانکی کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پنجاب کے ضلع شیخوپورہ اور اس کے گردونواح میں موسلا دھار بارش سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔ بارش کے دوران بجلی کے متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ تاہم شدید گرمی سے نڈھال شہریوں نے بارش کے بعد سکھ کا سانس لیا اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوئے۔
ضلع شکر گڑھ میں بھی کرتارپور اور گردونواح میں بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس سے موسم خوشگوار ہوگیا اور گرمی کی شدت کم ہوگئی۔ بارش شروع ہوتے ہی واپڈا کے کئی فیڈر ٹرپ کر گئے، جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کے دوسرے اسپیل کے پیشِ نظر 24 جولائی تک الرٹ جاری ہے اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی ہلکی اور تیز بارش نے موسم کا مزاج بدل دیا۔ مال روڈ، جیل روڈ، فیروزپور روڈ، گڑھی شاہو، ریلوے اسٹیشن اور بادامی باغ سمیت مختلف علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد گرمی اور حبس میں نمایاں کمی آگئی اور شہریوں نے خوشگوار موسم کا خیرمقدم کیا۔
علی پور چٹھہ سمیت مضافاتی علاقوں میں موسلا دھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا تاہم نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے کئی علاقے زیر آب آگئے۔ بارش کے دوران بجلی کے متعدد فیڈر بھی بند ہوگئے، جس سے شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔
ملکوال شہر اور گردونواح میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ کئی نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جس سے متاثرہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مون سون بارشوں کا سلسلہ آئندہ چند روز تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور بجلی کے نظام میں خلل کا بھی خدشہ ہے۔
ادھر مری میں گزشتہ تین روز سے مسلسل موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ملکہ کوہسار کا حسن مزید نکھر گیا تاہم متعلقہ ادارے صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مون سون بارشوں کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں، ضلعی انتظامیہ، واسا، ریسکیو اور دیگر اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ان کی ہدایت پر پنجاب بھر میں ریکارڈ مدت میں بارشی پانی کی نکاسی مکمل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع، ہر شہر اور ہر گلی میں نکاسی آب کے لیے ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں، واسا کی مشینری اور ضلعی انتظامیہ مسلسل کام کر رہی ہے جب کہ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے صورتحال کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو فیلڈ میں موجود رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ایک لمحے کی تکلیف بھی گوارا نہیں، ہر شہر میں بارشی پانی کی فوری نکاسی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین میں بارشی پانی کی نکاسی تیزی سے مکمل کی گئی، جبکہ گوجرانوالہ میں 250 ملی میٹر بارش کے باوجود پانی کا بروقت انخلا یقینی بنایا گیا۔
سیالکوٹ میں علامہ اقبال روڈ، کوٹلی بہرام، کمشنر روڈ، خادم علی روڈ، تحصیل بازار، ریلوے روڈ، راگ پورہ روڈ اور پیرس روڈ سے بارشی پانی نکال کر ٹریفک بحال کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے سیالکوٹ انتظامیہ کی بروقت کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سیالکوٹ سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی جائے تاکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع نہ ہونے دیا جائے۔
خیبرپختونخوا میں بارش سے 12 اموات
خیبرپختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مون سون تیز بارشوں اور فلش فلڈ سے گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث اب تک 12 افراد جاں بحق جب کہ 18 افراد زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 5 مرد، 5 بچے اور 2 خواتین جب کہ زخمیوں میں 10 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں، بارشوں کے باعث 3 گھر منہدم اور 15 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔
پشاور میں موسلا دھار بارش کے بعد نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا، بارش کے باعث شہر بھر میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن ہونے سے درجنوں فیڈر ٹرپ کر گئے۔ ریسکیو 1122 نے نوشہرہ کے صاحبزادہ ٹاؤن اکوڑہ خٹک میں سیلابی ریلے سے محصور 12 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلیا جب کہ آدم زئی شیٹ گلاس فیکٹری کے قریب پھنسے 6 افراد بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دیے گئے۔
مانسہرہ، ناران، کاغان اور بالاکوٹ میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، سہوج میں لینڈ سلائیڈنگ کے سڑکیں بند ہوگئیں۔ کے ڈی اے حکام نے جھیل سیف الملوک روڈ کو بحال کردیا، جھیل سیف الملوک سے واپس آنے والی گاڑیوں کو نکال لیا گیا جب کہ دیگر سڑکیں کھولنے پرکام جاری بدستور جاری ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع ملاکنڈ میں آج دوسرے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آگئی۔ بٹ خیلہ، درگئی، سخاکوٹ اور دیگر علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش ریکارڈ کی گئی جب کہ شہریوں نے ٹھنڈے موسم پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ضلع اٹک اور گردونواح میں گزشتہ 12 گھنٹوں سے مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے، موسلا دھار بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی جب کہ گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا اور گرمی کی شدت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔
ہزارہ ڈویژن اور کاغان ویلی میں بھی طوفانی بارشوں سے تین رابطہ پل بہہ گئے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم راستے بند ہو چکے ہیں جنہیں کھولنے کے لیے بھاری مشینری کام کر رہی ہے۔
ایبٹ آباد میں شاہراہِ ریشم پانی جمع ہونے سے جھیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ضلع ہری پور میں دوڑ ندی میں 13 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہری پور انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ”برساتی نالوں کے اطراف موجود تمام افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے“۔ یہاں تک کہ اسلام آباد کے ندی نالوں میں طغیانی کی صورت حال ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے، شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
این ڈی ایم اے کا الرٹ
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارتی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 25 جولائی تک گرمی اور بارشوں کے باعث گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے، جس سے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گر سکتے ہیں جب کہ اپر اور لوئر چترال کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
موسم کی عمومی صورت حال کے مطابق خیبرپختونخوا کے اکثر اضلاع میں مطلع ابر آلود ہے، جہاں پشاور میں درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ اور ہوا میں نمی 82 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
آزاد کشمیر
آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں طوفانی بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ریسکیو حکام کے مطابق سیور کے علاقے میں ایک مکان لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئیں۔
آزاد کشمیر کے رہائشی علاقے قندیل کالونی کی حفاظتی دیوار ٹوٹنے سے قریبی آبادی متاثر ہوئی جب کہ نالہ ماہل کے قریب واقع شیخ بستی کے متعدد گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ باغ کے مرکزی پل کے نیچے قائم کئی دکانیں طغیانی کی نذر ہوگئیں جب کہ ایک رابطہ سڑک کا حصہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔
ادھر تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج کے بعد دریائے سندھ میں اٹک کے مقام پر سطح بلند ہو گئی ہے جہاں دریا کی طرف جانے والے راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک دریائے چناب، جہلم اور کابل میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور مرطوب رہا، جہاں نوکنڈی میں درجہ حرارت 47، سبی میں 45 اور کوئٹہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، تاہم قلات، خضدار، ژوب، لورالائی اور بارکھان سمیت چند علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
