میر رضا کی قبر کشائی کا فیصلہ عدالتی حکم پر مؤخر

قبر کشائی آج کے لیے مؤخر کردی گئی ہے، جبکہ نیا میڈیکل بورڈ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔: وکیل جبران ناصر
اپ ڈیٹ 07 اگست 2026 11:30am

کراچی میں میررضا قتل کیس میں قبر کشائی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا ہے، جبکہ مقتول کے اہلخانہ نے نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت نے میررضا کی قبر کشائی کا فیصلہ مؤخر کیا۔ پولیس کے مطابق تفتیشی افسر میڈیکل بورڈ کے ارکان کے بیانات ریکارڈ کر رہے ہیں، جس کے بعد قبر کشائی سے متعلق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

مقتول میررضا کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبر کشائی آج کے لیے مؤخر کردی گئی ہے، جبکہ نیا میڈیکل بورڈ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ سے متعلق بار بار نوٹیفکیشن جاری کیے جا رہے ہیں، تیسرا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے، تاہم ہم تیسرے نوٹیفکیشن کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میر رضا کے والدین نے بھی تفتیشی افسر کو اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کے والد براہ راست وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کر رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور تبدیلی کے معاملے میں ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔

وکیل نے مطالبہ کیا کہ میڈیکل بورڈ میں کراچی کے افسران اور ڈاکٹرز کو شامل کیا جائے۔ ان کا سوال تھا کہ راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟

اس موقع پر میررضا کے والد نے بھی میڈیکل بورڈ اور تفتیش کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو کہاں غائب کردیا گیا، اور کس کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

میررضا کے والد نے سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ قتل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کراچی میں کوئی ڈاکٹر یا پڑھے لکھے لوگ نہیں بچے کہ میڈیکل بورڈ کے لیے اندرون سندھ سے افراد لانا پڑیں گے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کراچی میں ماہر ڈاکٹر موجود ہیں تو پھر دوسرے علاقوں سے لوگوں کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

دوسری جانب پولیس کے مطابق نئے میڈیکل بورڈ کے ارکان کے بیانات لیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پرانے میڈیکل بورڈ کے ارکان بھی قبرستان پہنچ گئے تھے، تاہم انہیں نئے نوٹیفکیشن کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے دو ارکان قبرستان نہیں پہنچ سکے، جس کے باعث قبر کشائی کی کارروائی مکمل نہ ہوسکی۔

اس سے قبل میر رضا علی کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کے معاملے پر مقتول کے والد کے وکیل جبران ناصر نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو ہنگامی قانونی نوٹس ارسال کیا تھا۔

وکیل جبران ناصر کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت کے احکامات کے مطابق میر رضا علی خان کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم پہلے سے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ ہی سے کرایا جائے۔

نوٹس کے مطابق عدالت نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس سرجن کراچی نے عدالتی احکامات کی روشنی میں 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔

وکیل کے مطابق مذکورہ میڈیکل بورڈ میں فرانزک اور پیتھالوجی کے ماہرین بھی شامل تھے، جبکہ مقتول کے ورثا نے اس اصل میڈیکل بورڈ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

قانونی نوٹس میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ ڈویژن کے تحت پولیس سرجن کو قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہے، تاہم 6 اگست کی رات ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔

جبران ناصر کے مطابق نئے بورڈ کی تشکیل کے دوران سابق میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان کو تبدیل کردیا گیا، جس پر مقتول کے اہل خانہ کو شدید تحفظات ہیں۔

نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی عدالتی احکامات کے منافی ہے، جبکہ ڈی جی ہیلتھ کو پولیس سرجن کراچی کے اختیارات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔

وکیل نے واضح کیا کہ مقتول کے ورثا نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے پر رضامند نہیں ہیں۔

نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ اگر نئے میڈیکل بورڈ کی جانب سے میر رضا علی خان کی قبر کشائی کی گئی تو اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

نوجوان تاجر میر رضا کے وکیل جبران ناصر کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ میں اچانک تبدیلی نے مقتول کے اہل خانہ کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، اس لیے عدالتی احکامات کے مطابق پہلے سے تشکیل دیے گئے اصل میڈیکل بورڈ کو ہی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کے معاملے کو فوری طور پر درست کیا جائے۔

تاحال ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کی وجوہات یا اس معاملے پر مؤقف سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل میر رضا علی کے والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ جس میڈیکل بورڈ پر پہلے اعتماد کیا گیا تھا، اگر اسے تبدیل کرکے نئے ارکان پر مشتمل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی کوشش کی گئی تو وہ اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

Read Comments