جسم پر موجود یہ دھبّے خطرناک بیماری کی علامت ہو سکتے ہیں
پاکستان میں ان دنوں ایک نئے وائرس نے گھر کر لیا ہے خصوصا شہر کراچی میں لوگ اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں، چکن گونیا نامی یہ وائرس بچوں بڑوں ہر ایک کو لاحق ہو رہا ہے ، اگر احتیاطی تدابیر نہ کی جائیں تو بیحد تکلیف کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ بخار دراصل مچھروں کے کاٹنے سے پھیل رہا ہے، ڈینگی کے بعد اب چکن گونیا کے باعث لوگوں کو بیحد مشکل کا سامنا ہے۔
یہ وائرس افریقہ سے آنے والا کوئی پہلا وائرس نہیں اس کی تشخیص کی جا چکی ہے یہ مچھر کے کاٹنے کے باعث ہوتا ہے، جس کے بعد بخار کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی کمی ہونے لگتی ہے، اس کی واضح اور تکلیف دہ علامت یہ ہے کہ اس بخار میں جوڑوں میں بے تحاشہ درد ہوتا ہے جس کے وجہ سے انسان ٹھیک طرح چل پھر بھی نہیں پاتا۔
اگر آپ کو اچانک بخار کی کیفیت طاری ہو اور ایک دم بخار زور پکڑ لے، جسم پر لال دھبے نمودار ہونے لگیں ، جوڑوں میں درد رہنے لگے یا سر میں درد رہنے لگے تو فوری اپنے معالج کے پاس جائیں اور اپنے ٹیسٹ کروائیں، یہ تمام علامات چکن گونیا کی ہو سکتی ہیں لہذا احتیاط کرنا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ آج ہم آپ کو چند ایسی تدابیر بتائیں گے جن پر عمل کر کے آپ بھی اس مہلک بیماری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
تلسی کے پودے کا نام تو ہم سب نے سنا ہو گا، گھر میں تلسی کا پودا موجود ہو تو اس کی گھر میں مچھر نہیں آتے اس کے علاوہ اگر گھر میں نیم کا پودا لگا لیا جائے تو بھی مچھروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ کوشش کیجئے کہ اپنے جسم پر لیموں کا رس لگا کر رکھیں ۔ لیموں کی خوشبو سے مچھر آپ کو نہیں کاٹیں گے۔
پوری آستین والے کپڑے زیب تن کریں اور بچوں کو بھی شام میں ایسے کپڑے پہنائیں جن سے ان کا جسم پوری طرح ڈھک جائے تاکہ کوئی مچھر با آسانی آپ کو نہ کاٹ سکے۔
اس کے علاوہ وقتاً فوقتا اسپرے کرتے رہیں تاکہ مچھر اور دیگر کیڑے مکوڑے گھر میں داخل نہ ہو سکیں۔
ان تمام ہدایات ہر عمل کر کے آپ اس مہلک بیماری سے محفوظ رہ سکتے ہییں
نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات کے لئے ہے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔