اگر آپ بھی وزن کم کرنا چاہتے ہیں توان مفروضوں پر یقین کرنا چھوڑدیں
وزن بڑھنے اور پھر اسے گھٹانے پر بے تحاشہ تحقیقات ہوچکی ہیں ،ماہرین نے اس ایک موضوع پر بے حساب کتابیں لکھی ہیں کہ انسان کا وزن بڑھنے کی وجہ کیا ہے اور اسے کیسے کم کیا جائے۔
وزن میں زیادتی کا شکار افراد کئی مفروضات پر آنکھ بند کرکے یقین کرتے ہیں جیسے ڈائیٹنگ کے دوران زیادہ تیل والی اشیاء سے مکمل پرہیزکیا جائے یا ہروقت چبانے کی عادت کو ختم کیا جائے وغیرہ،لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ان باتوں پر عمل کرنا بند کرنا ہوگا۔یہاں وزن گھٹانے کے دوران وہ کون سی باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے آپ کو فائدے کی بجائے نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے بیان کی جارہی ہیں۔
٭آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہوگا اگر آپ وزن کم کررہے ہیں تو اسنیک(زیادہ تیل میں تلی ہوئی اشیاء)کھانا چھوڑ دیں ،اس کے علاوہ یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ کھانا پینا بہت ہی کم کردیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے ،آپ کا میٹا بولزم اس وقت بڑھ جاتا ہے جب آپ جلد سے جلد اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں ،اس کے علاوہ آپ کو چاہئے کہ اپنی خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کردیں اور کھانا کھانے کے درمیان اسنیکس بھی کھائیں ،یہ عمل آپ کا وزن گھٹانے میں معاون ثابت ہوگا اور آپ دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے درمیان زیادہ بھوک بھی محسوس نہیں کریں گے۔
ماہرین اکثر ڈائیٹنگ کرنے والے افراد کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی خوراک کو 6-5 حصوں میں تقسیم کرلیں،اور اسنیکس بھی کھائیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسنیکس کے نام پرآپ کینڈی،مفنز اور بہت زیادہ مرچ مصالحوں اور تیل والی اشیاء کھانا شروع کردیں بلکہ ان کی جگہ خشک میوہ جات ،اُبلی ہوئی سبزیاں اور مختلف پھلوں کا استعمال شروع کردیں۔
٭ڈائیٹنگ کی ابتداء میں اپنی روز مرہ کی خوراک کو ایک دم سے اُبلے ہوئے کھانے سے تبدیل کردینا بہت مشکل ہوتا ہے ،لہٰذا آہستہ آہستہ اپنی غذا تبدیل کریں،اس کے علاوہ خوراک میں ایسی اشیاء کا استعمال بڑھادیں جن کے طبی فوائد زیادہ ہوں ،اپنی خوراک میں سلاد ،گرلڈ چکن ،تازے پھل ،ابلی ہوئی سبزیاں شامل کرلیں۔
نوٹ:یہ تحریر محض عام معلومات کیلئے پیش کی جارہی ہے اس پر عمل کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرلیں

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔