پاکستان میں تقریبا 5 فیصد آبادی فالج کے مرض میں مبتلا ہے
فائل فوٹوپاکستان میں فالج کے باعث روزانہ چار سو افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ایک ہزار افراد اس سے متاثر ہوررہے ہیں۔ یہ انکشاف پاکستان نیورولوجی اینڈ ریسرچ سوسائٹی نے کیا ہے۔
پاکستان نیورولوجی اینڈ ریسرچ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر، شوگر اور تمباکو نوشی سے پرہیز کر کے فالج سے بچا جاسکتا ہے۔
یوں تو آج دنیا بھر میں برین ڈے منایا جارہا ہے ہے۔لیکن ماہرین کے اس انکشاف نے کہ پاکستان میں تقریبا پانچ فیصد آبادی فالج کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس دن کی اہمیت مزید بڑھادی ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے ہر چھ میں سے ایک شخص کو کبھی بھی کہیں بھی فالج ہوسکتا ہے۔بلڈپریشر اور شوگر کو کنڑول کر کے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ فالج سے بچاؤ کے لیے اسٹروکس یونٹس قائم کیے جائیں اور آگاہی فراہم کرنے کے لیے مہم چلائی جائے۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔