کراچی میں سحری کے وقت گیس لیکیج سے دھماکا، 16 افراد جاں بحق
کراچی کے علاقے سولجر بازار گل رانا کالونی کی ایک رہائشی عمارت میں سحری کے وقت گیس لیکیج سے دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق جبکہ 14 زخمی ہوگئے، ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ عمارت میں سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے اور اب اندر کسی اور فرد کی موجودگی کی اطلاع نہیں ہے۔ لاشوں اور زخمیوں کو ملبے سے نکال کر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ افسر ڈاکٹر عابد جلال الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ عمارت تین منزلہ تھی اور ہر منزل پر ایک کمرہ قائم تھا۔ ان کے مطابق دھماکے کے بعد عمارت کا بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملبہ زیادہ ہونے اور جگہ محدود ہونے کی وجہ سے ٹیموں کو نہایت احتیاط سے کام کرنا پڑا۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کی گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے بھاری مشینری کو موقع پر پہنچانے میں دشواری کا سامنا رہا، تاہم ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کرتی رہیں اور تمام متاثرین کو نکال لیا گیا۔ ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر واجد نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا عمارت کی پہلی منزل پر ہوا۔
واقعے کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آتشزدگی گیس لیکج کے باعث ہوئی اور گیس سلینڈر دھماکے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
حکام نے بتایا کہ باورچی خانے میں گیس کی فٹنگ ناقص تھی اور گیس کی سپلائی کے لیے پلاسٹک کا پائپ استعمال کیا گیا تھا، جس سے گیس کے اخراج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ گھر میں گیس کھینچنے والی مشینیں بھی نصب تھیں۔
عابد فاروق کے مطابق علاقے میں کئی روز سے گیس کی فراہمی معطل تھی اور گزشتہ رات اچانک تیز دباؤ کے ساتھ گیس کی سپلائی شروع ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر گیس کی چابی کھلی رہ جانے، شارٹ سرکٹ یا ماچس جلانے سے دھماکا ہوا۔
حکام کے مطابق شہر میں اکثر ایسے واقعات گیس کے اخراج کے باعث پیش آتے ہیں نہ کہ گیس سلینڈر دھماکوں سے۔
دوسری جانب واقعے پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
صدر نے متعلقہ حکام کو بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے اور صوبائی حکومت کو واقعے کی ہر پہلو سے انکوائری کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
علاقے میں فضا سوگوار ہے جبکہ متعلقہ ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات میں مصروف ہیں تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔