مغربی دلہنیں سفید لباس ہی کیوں پہنتی ہیں؟

مغربی ممالک کے علاوہ دیگر کئی ملکوں میں بھی یہ رواج ہے کہ شادی کے موقع پر دلھن سفید لباس کا خوبصورت جوڑا زیب تن کرتی...
اپ ڈیٹ 13 اگست 2024 06:54pm

2017-Cheap-font-b-White-b-font-font-b-Veil-b-font-font-b-Bride-b

مغربی ممالک کے علاوہ دیگر کئی ملکوں میں بھی یہ رواج ہے کہ شادی کے موقع پر دلھن سفید لباس کا خوبصورت جوڑا زیب تن کرتی ہے۔اس سفید جوڑے کے بارے میں دنیا بھر میں یہی مشہور ہے کہ مغربی مذہب اور تہذیب و تمدن میں دلہن کا سفید لباس پاکیزگی اور خالص پن کی علامت ہے۔مگر اب برطانوی محققین کی تحقیق سے کچھ اور ہی سچائی سامنے آئی ہے۔

لندن کے وکٹوریا اینڈ البرٹ میوزیم کی کیوریٹر، ایڈوینا ایہرمن نے بتایا کہ سفید عروسی لباس سے وابستہ پاکیزگی اور خالص پن کا نظریہ درست نہیں 133 بلکہ یہ دراصل دولت کی نمائش اور دکھاوے کی علامت ہے۔

ایڈوینا نے بتایا کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے مغرب میں سفید لباس پہننا ہر ایک کے بس کی بات نہ تھی کیونکہ ان دنوں کپڑے دھونے کا کوئی مناسب انتظام نہ تھا۔ ہر کوئی روزانہ اپنے لباس دھونے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا ۔لوگ عام طور پر رنگ دار لباس زیب تن کرتے تاکہ میل کچیل زیادہ واضح نہ ہو سکے۔ اس وقت سفید لباس صرف انتہائی دولت مند لوگ پہنتے تھے۔یہ لباس عموماً  ایک دفعہ سے زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا۔گویادو تین صدیاں قبل یورپ میں سفید لباس محض دولت کی نمود و نمائش کرتے ہوئے پہنا جاتا تھا۔رفتہ رفتہ شادی کے خاص موقع پر اسے امراء کی دلہنیں پہننے لگیں۔

دلہن کے سفید لباس کی روایت عام لوگوں میں بھی مقبول ہوتی گئی اور صرف ایک بار پہننے کے لیے سفید عروسی جوڑے تیار کئے جانے لگے۔ آج مغربی ممالک ہی نہیں ایشیا اور لاطینی امریکا میں بھی یہ روایت بہت مقبول ہوچکی۔تاہم اکثر لوگ اسے پاکیزگی اور کنوارے پن کے ساتھ جوڑتے ہیں جو غلط بات ہے ۔

بشکریہ BBC