مائیکل جیکسن اگر سرجریاں نہ کرواتے تو وہ کیسے نظر آتے؟
مائیکل جیکسن کنگ آف پاپ کے نام سے جانے جاتے تھے، وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن سے کروڑوں افراد متاثر تھے، ان کے مداحوں کی تعداد پوری دنیا میں موجود ہے۔ تاہم جب آپ مائیکل جیکسن کے ابتدائی کیریئر پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ ایک سیاہ فام انسان تھے جنہوں نے کئی سرجریاں اور مختلف علاج کرواکر اپنی رنگت اور چہرے کی بناوٹ میں تبدیلی مرتب کی۔
مائیکل جیکسن کو ابتداء میں 'جیکسن 5' کے نام سے جانا جاتا تھا۔انہوں نے کئی شاندار گانوں بالخصوص 'بلی جینس' اور 'بیٹ اٹ' میں اپنی آواز اور ڈانس کا جادو جگا کر خوب شہرت حاصل کی۔
ابتداء میں مائیکل جیکسن ایسے تھے۔
پھر انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے اندر تبدیلی لانا شروع کی۔
تبدیلی واضح نظر آنا شروع ہوئی۔
انہوں نے ناک، ہونٹ اور گال ہر چیز کو سرجری کے ذریعے تبدیل کروالیا۔
لیکن انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟
آہستہ آہستہ ان کی خوبصورتی ماند پڑتی گئی اور وہ ایک مونسٹر کی مانند نظر آنا شروع ہوگئے۔
لیکن آپ سوچ رہے ہونگے کہ اگر وہ سرجریاں نہ کرواتے تو کیسے لگتے؟
ایک اندازے کے مطابق وہ کچھ اس طرح کے نظر آتے۔
ان کی پیدائش 29 اگست 1928 کو امریکا کے ایک سیاہ فام گھرانے میں ہوئی اور وہ 25 جون 2009 کو اس دنیا کو چھوڑ گئے۔

مگر چاہے کچھ بھی کہیں وہ واقعی پاپ کے کنگ تھے اور دنیا آج بھی ان کی دیوانی ہے۔
Thanks to wittyfeed

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔