عزیر بلوچ کرپٹ صحافیوں اور سیاستدانوں کے نام بتاناشروع
لیاری گینگ وارکے گرفتارسرغنہ عزیربلوچ نے سرپرستی کرنے والے سیاستدانوں اور پولیس افسران کے بعد پیسے اور تحائف لینے والے صحافیوں کے نام بھی اگلنا شروع کردیئے ہیں۔ سو سے زائد صحافی ماہانہ پانچ ہزار سے ایک لاکھ روپے تک وصول کرتے تھے۔
ذرائع کے مطابق لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ سے تحقیقاتی اداروں کی تفتیش جاری ہے اورساتھ ہی سنسنی خیزانکشافات بھی سامنے آرہے ہیں۔
ملزم کئی سیاستدانوں اورپولیس افسران کے نام سرپرستی کرنے والے افراد کی فہرست میں درج کراچکا ہے۔ذرائع کے مطابق ملزم نے تفتیش کاروں کوان افراد کے نام بھی بتائے ہیں جنہیں گینگ وارکی جانب سے ماہانہ پیسے دیئے جاتے ہیں۔ان افراد میں بڑی تعداد صحافیوں اور میڈیا سے وابسطہ دیگرافراد کی ہے۔
ذرائع کے مطابق عزیر نے تفتیش میں انکشاف کیا کہ سو سے زائد صحافیوں کو ماہانہ پانچ ہزارروپے سے ایک لاکھ روپے تک دیا جاتا تھا، جبکہ تحائف میں قیمتی موبائل فون اورگھڑیاں بھی دی جاتی تھیں،ماہانہ کے علاوہ اگرکسی کو رقم کی ضرورت ہوتی تو بینک اکاونٹس سے بھی رقم منتقل کی جاتی تھی۔
ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ہے صحافیوں کو دی گئی رقوم کا تمام حساب مقتول ظفربلوچ رکھتا تھا،اسکے علاوہ صحافیوں کی ضیافتوں پر بھی لاکھوں روپے ماہانہ خرچ کیے جاتے تھے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔