حکومت کاعوام کو مہنگا تیل فروخت کرنے کا انکشاف
اسلام آباد:بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تیرہ سال بعد ایک بار پھر ستائیس ڈالر فی بیرل پر آگئی جبکہ حکومت سینتیس روپے اٹھاون پیسے فی لیٹر پڑنے والا پیٹرول عوام کو اکہتر روپے پچیس پیسے فی لیٹر فروخت کر رہی ہے، یعنی ہر لیٹر پر شہری تینتیس روپے سڑسٹھ پیسے ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیوں کی مد میں ادا کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تیرہ سال بعد ایک بار پھر ستائیس ڈالر فی بیرل پر آگئی، یعنی ایک لٹر تیل سینتیس روپے اٹھاون پیسے میں پڑ رہا لیکن پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دوہزار تین کی سطح پر نہیں آسکیں۔
تیرہ برس قبل پاکستان میں پیٹرول کی قیمت بتیس روپے پچاس پیسے فی لیٹر تھی، جو اس وقت بھی اکہتر روپے پچیس پیسے ہے، پی ایس او کی فی لیٹر کاسٹ سینتیس روپے اٹھاون پیسے ہے، جبکہ ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن تین روپے چھہتر پیسے، آئل مارکیٹنگ کمپنیز کا مارجن دو روپے پینتیس پیسے، ڈیلرز کمیشن تین روپے آٹھ پیسے اور پیٹرولیم لیوی دس روپے وصول کیا جا رہا ہے۔
اس طرح پیٹرول کی قیمت چھپن روپے ستتر پیسے فی لیٹر بنتی ہے، لیکن حکومت نے اس پر چودہ روپے اڑتالیس پیسے فی لیٹر سیلز ٹیکس لگا دیا، جس کے بعد عوام سے پیٹرول کی قیمت اکہتر روپے پچیس پیسے فی لیٹر وصول کی جارہی ہے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔