مولانا عبدالعزیز کی2 مقدمات میں ضمانت منظور
اسلام آباد:اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج نے سول سوسائٹی کو دھمکیاں دینے کے کیس میں لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی دو مقدمات میں ضمانت کی درخواست منظور کر لی، مولانا عبدالعزیز نے سانحہ چارسدہ کی مذمت کی اور مسجد آپریشن کے تمام کرداروں کو معاف کرنے کا اعلان کردیا۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف نے مولانا عبدالعزیز کی دو مقدمات میں 50،50 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے مجھ پر اور ام حسان پر جھوٹے مقدمات بنائے مگر میرا مزاج انتقامی نہیں، لال مسجد آپریشن کے تمام کرداروں کو معاف کر دیا، مشرف کو بھی معاف کر دیں گے۔
مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ خاندان کو کچھ لوگ معافی دینے پر تیار نہیں مگر انہیں جلد منالوں گا، اس حوالے سے کوئی ڈیل ہے نہ ہی کوئی دباوٴ ، جلد پریس کانفرنس میں مشرف کی معافی کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
اس موقع پر شہداء فاوٴنڈیشن کے وکیل طارق اسد نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کو مولانا عبدالعزیز اکیلے معاف نہیں کرسکتے، وہ تمام شہدا کے مجرم ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا عبدالعزیز نے سانحہ چارسدہ کی مذمت کی اور کہا کہ حملے میں ہمارے بھائی شہید ہوئے ہیں۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔