کراچی:اسکول پرہونیوالے حملے کا ڈراپ سین

شائع 15 فروری 2016 05:15pm

kchi

کراچی:کراچی میں جمعے کے روز ایک کے بعد ایک تین دستی بم حملوں نے شہر میں خوف کی فضا قائم کردی تھی لیکن جب نجی اسکول پر دستی بم حملے کا معمہ حل ہوا تو اہم انکشاف سامنے آیا، ناظم آباد میں قائم نجی اسکول کے طلبہ نے بیان دیا کہ انہوں نے شرارت سے اسکول میں پٹاخہ پھوڑا تھا، خوف کی وجہ سے بتا نہ سکے۔

بارہ فروری دو ہزار سولہ کے روز کراچی میں یکے بعد دیگرے تین دستی بم حملے ہوئے۔پہلا حملہ تھانے پر، دوسرا نجی کالج اور تیسرا ایک نجی اسکول پر کیا گیا۔تین پے درپے دھماکوں نے شہر میں خوف کی فضا قائم کردی۔لیکن تین دن بعد نارتھ ناظم آباد کے نجی اسکول پر ہونے والے تیسرے حملے کا ڈراپ سین ہوگیا۔حملہ کسی دہشتگرد تنظیم یا گروہ نے نہیں کیابلکہ حملہ کرنے والا خود اسکول کا طالب علم تھا۔

دو دن کی تعطیل کے بعد جب آج اسکول کھلا تو پولیس بھی تفتیش کرنے کے لیے پہنچی۔اسکول کا جائزہ لیا گیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دیکھی، جس سے یہ معلوم ہوا کہ اسکول کے باہر سے کوئی چیز اندر نہیں پھینکی گئی۔پوچھ گچھ پر طالب علم نے بتایا کہ رینجرز کے آنے پر وہ خوفزدہ ہوگئے تھے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف شرارت کی تھی،جبکہ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فیس کی عدم ادائیگی پر طلبا کو امتحان دینے سے روکنے کا رد عمل ہے۔

طالب علم نے بتایا کہ پٹاخہ گھر کے قریب مارکیٹ سے خریدا تھا، پٹاخہ پھٹنے سے خود بھی زخمی ہوگیا۔طالب علم کے والد بچوں کی اس حرکت پر شرمندہ ہیں۔ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد تھانہ کہتے ہیں طالبعلموں کو تنبیہ کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔ایس ایس پی انوسٹیگیشن عرب مہر کا کہنا ہے کہ طلبہ نابالغ ہیں انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔