ایران امریکی قزاقوں کو آبنائے ہرمز میں ڈبوبے کی صلاحیت رکھتا ہے: پاسداران انقلاب
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی انٹیلی جنس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اب محدود آپشنز رہ گئے ہیں اور انہیں ایران کے خلاف ”ناممکن فوجی کارروائی“ یا ”خراب معاہدے“ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے کہا کہ ایران کی جانب سے ایک جامع تجویز پیش کیے جانے کے بعد امریکا کے لیے فیصلے کی گنجائش کم ہو گئی ہے، ایران نے یہ تجویز امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی ہے، جس کے بعد اب فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں امریکی صدر کو ”ناممکن فوجی آپریشن“ یا ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایک خراب معاہدہ“ کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا کے لیے فیصلہ سازی کا دائرہ محدود ہو چکا ہے اور خطے کی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کو امریکی افواج کا قبرستان بنا دیں گے، ایران
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر اور سابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے ایک اعلیٰ فوجی مشیر نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری موجودگی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور انہیں ”قبرستان“ میں تبدیل کردیا جائے گا۔
محسن رضائی نے اپنے بیان میں امریکی بحریہ کو ”قزاق“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود امریکی طیارہ بردار جہاز اور افواج تباہی کا سامنا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا دنیا کا واحد ”قزاق“ ہے، جس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہیں اور ایران کے پاس ان کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت ہے۔ ان کے مطابق ایران جنگی جہازوں کو ڈبونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا تھا کہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے میں ”قزاقوں“ جیسا کردار ادا کر رہی ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی صدر کی جانب سے امریکی بحری افواج کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حکم دیا گیا تھا، جو ایک اہم عالمی آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا، جس میں اعلیٰ ایرانی حکام اور فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی مسلح افواج نے اس کے جواب میں خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر متعدد جوابی حملے کیے۔ ایران نے اس دوران آبنائے ہرمز میں تیل و گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت بھی محدود کردی۔
بعدازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں عارضی جنگ بندی عمل میں آئی تاہم ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی لیکن ساتھ ہی ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی عائد کر دی۔
ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ملکی مسلح افواج امریکی ناکہ بندی کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی اور اس کے خلاف مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایرانی حکام نے واضح کیا کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اس وقت تک تیار نہیں جب تک امریکا اپنی غیر ضروری شرائط اور ایرانی جہازوں کے خلاف اقدامات ختم نہیں کرتا۔














