مشرف غداری کیس،سابق چیف جسٹس عبدالحمیدسے تفتیش کافیصلہ کالعدم

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے مشرف غداری کیس میں سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگرسمیت تین ملزموں کو شامل تفتیش کرنے کافیصلہ کالعدم قراردے دیا۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگرکی درخواست پرفیصلہ سنایا، عدالت نے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، سابق وزیرقانون زاہد حامد اورسابق وزیراعظم شوکت عزیزپرویزمشرف غداری کیس میں شریک ملزم قراردینے کے فیصلہ کالعدم قراردے دیا، عدالت نے قرار دیا کہ ایمرجنسی کے حکم نامے پر پرویز مشرف ریٹائرڈ کے دستخط موجود ہیں، وفاق پرویز مشرف کو ایمرجنسی لگانے کا تنہا ذمہ دار سمجھتا ہے۔
خصوصی عدالت کے ترمیمی ایکٹ میں ایسی کوئی شق شامل نہیں کہ کسی کو شامل تفتیش کیا جائے، ہائیکورٹ اور خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں کہ کسی کو شامل تفتیش کرے، خصوصی عدالت سابق صدرپرویزمشرف کے خلاف ٹرائل جاری رکھے،عدالت نے سابق چیف عبدالحمید ڈوگر کی اپیل باقاعدہ سماعت کیلئے منظورکرلی ہے۔
واضح رہے خصوصی عدالت نے ستائیس نومبر دوہزار پندرہ کو عبدالحمید ڈوگر سمیت سابق وزیراعظم شوکت عزیز،سابق وزیرقانون زاہد حامد کو شامل تفتیش کرنے کا حکم دیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔