لاہور :تعلیمی اداروں میں فیسوں میں اضافہ روکنے کیلئے قرارداد منظور

اپ ڈیٹ 26 فروری 2016 06:28pm

punjab
لاہور :پنجاب اسمبلی نے نجی تعلیمی اداروں میں فیسوں میں اضافہ روکنے کیلئے قرارداد منظور کرلی،ہندو شادی ترمیمی ایکٹ بھی اظہار یکجہتی کے طور پر منظور کرلیا گیا اراکین کہتے ہیں کہ یہ بل والدین اور اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔

پنجاب اسمبلی نے والدین کے لیے وبال جان بنا نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافہ روکنے کے لیے قانون بنا لیا جس کے مطابق فیسیں بڑھانے والیغیررجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کو چالس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا، ادارہ داخلہ،سکیورٹی لیبارٹری فیس بھی نہیں لے سکتا اور یکم اپریل سے نئے سیشن کے دوران اب فیسیں نہیں بڑھائی جاسکیں گی۔

پارلیمنٹ کی نیشنل کمیٹی میں منظور شدہ ہندو شادی ترمیمی ایکٹ دوہزار پندرہ کو پنجاب اسمبلی نے بھی اظہار یکجہتی کے طور پر منظورکرلیا،وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے قرارداد پیش کی تھی،اراکین کا کہنا تھا کہ اقلیت کے حقوق کی پاسداری کرنا ہر شہری کا اخلاقی فرض ہے۔
اجلاس کے دوران پنجاب ایجوکیشن فاوٴنڈیشن،علی انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں بننے والی غازی یونیورسٹی کے ترمیمی بلز منظور کرلئے گئے،جس کے بعد اجلاس کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔