فیصلوں میں تاخیر کی وجہ مقدمات کی زیادتی ہے،انور ظہیر جمالی
کراچی:چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کہتے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے، موجودہ دور میں حلال حرام اور سچ و جھوٹ کا فرق ختم ہوچکا ہے۔
کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انورظہیرجمالی نے کہا کہ ملک میں آزاد عدلیہ موجود ہے جو اپنے فرائض ذمہ داری سے انجام دے رہی ہے۔
چیف جسٹس نے مقدمات میں تاخیر سے متعلق کہا کہ عدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد بہت ہے،جس کی وجہ سے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے،انصاف کی فراہمی کے لیئے متبادل طریقہ کار اپنانے پر غور کررہے ہیں۔جسٹس انورظہیرجمالی کا کہنا تھاکہ عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ ختم کرنے کیلئے عدالت سے باہرتصفیے کامتبادل طریقہ کارموجود ہے۔موجودہ عدالتی نظام پرتنقید نامناسب ہے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔