سپریم کورٹ : پی ایم ڈی سی رجسٹرار کی بحالی کیخلاف حکومتی اپیل پرفیصلہ محفوظ
فائل فوٹواسلام آباد:سپریم کورٹ نے پی ایم ڈی سی رجسٹرارکی بحالی کیخلاف حکومتی اپیل پرفیصلہ محفوظ کرلیا ۔چیف جسٹس نے رجسٹرار پی ایم ڈی سی کو فیصلے تک عمارت میں داخل ہونے سے بھی روک دیا ۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی خصوصی بینچ نے پی ایم ڈی سی رجسٹرار کی بحالی کیخلاف حکومتی اپیل پرسماعت کی۔
ےبتایاکہ رجسٹرار پی ایم ڈی سی تالے توڑکر عمارت میں داخل ہوئے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر رجسٹرارپی ایم ڈی سیی دفترمیں ہیں توپی ایم ڈی سی سے نکل جائیں اورفیصلے تک عمارت میں داخل نہ ہوں۔
اٹارنی جنرل نے رجسٹرارکی تعیناتی 2019 کے آرڈیننس کے تحت ہونے کا بتایاتو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹ نے پی ایم سی آرڈیننس ہی کالعدم قراردیدیا قانون ختم ہوگیا تو اس کے تحت ہونے والی تعیناتی کیسے بحال ہوسکتی؟ توہین عدالت کی درخواست پرہائیکورٹ اس نوعیت کا حکم نہیں دے سکتی ۔
چیف جسٹس نے کہاکہ ہزاروں ڈاکٹرزکی رجسٹریشن کا عمل رکا ہوا ہے، ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کے نہیں بلکہ پی ایم سی ملازمین کوبحال کیا ۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پی ایم ڈی سی کورجسٹراراورملازمین کے متعلق فیصلے کا اختیارہے۔
اٹارنی جنرل نے سابق جج کوپی ایم ڈی سی کا صدرتعینات کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی صوابدید ہے جسٹس ریٹائرڈ شاکراللہ جان کوہی دوبارہ تعینات کرے یا کسی اورجج کوکردے ۔
عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر پی ایم ڈی سی رجسٹرار کی بحالی کیخلاف حکومتی اپیل پرفیصلہ محفوظ کرلیا ۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔