Aaj TV News

BR100 4,439 Increased By ▲ 19 (0.44%)
BR30 22,677 Increased By ▲ 65 (0.29%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

ناروے کی ایک عدالت نے ایک شخص کو اپنی نوعمر سوتیلی بہن کو قتل کرنے اور ایک مسجد پر فائرنگ کرنے کے الزام میں 21 سال قید کی سزا سنادی۔

غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ برس اگست میں دارالحکومت اوسلو کےقریب  واقع بیرم کے النور اسلامک سنٹر پر22 سالہ فلپ مانشاؤس نے گولیاں چلائیں تھیں۔

مسجد کے اندر متعدد گولیاں چلائی گئیں لیکن اس کے نتیجے میں کوئی بھی شخص شدید زخمی نہیں ہوا۔ پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی مانشاؤس کوقابو کر لیا گیا تھا۔

واقعےکو انتہائی دائیں بازو کی نسل پرست دہشتگردی کی کارروائی قرار دیا گیا۔

پولیس کو ملنے والے شواہد کے مطابق  مانشاؤس برینٹن ٹیرنٹ سے متاثر ہوا تھا۔جس پر مارچ 2019 میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پرحملوں کا الزام ہے۔ ٹیرنٹ نے نیوزی لینڈ میں قتل کے 51 الزامات میں اعتراف جرم کیا ہے۔

مانشاؤس کوملنے والی کم سے کم سزا 14 سال ہے جو دائیں بازو کے انتہا پسند اینڈرس بیہرنگ براوک کے کیس میں ملنے والی کم سے کم سزا سے 10 سال زیادہ ہے۔

گزشتہ برس  مانشاؤس بھاری ہتھیاروں سے لیس مسجد میں داخل ہوا لیکن 65 برس کے پاکستانی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ افسر محمد رفیق نے ان پر قابو پالیا۔ انہوں نے مانشاؤس کو پکڑا اور وہ اسے غیر مسلح کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اس حملے کے فورا بعد ہی حملہ آور کی 17 سالہ چینی نژاد سوتیلی بہن یوہان ژانگجیہ اہلی ہینسن کی لاش بیرم کے ایک گھر سے ملی۔

جج انیکا لنڈسٹروئم نے فیصلےسناتے ہوئے کہا کہ مانشاؤس نے نیو نازی ویب سائٹس دیکھیں جن میں ایسے صفحات شامل تھے جن میں 'نسل پر مبنی' خانہ جنگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ مسجد میں زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے مقصد کے ساتھ داخل ہوا تھا۔

عدالت میں مانشاؤس نے اپنے کیے پر افسوس کا اظہار نہیں کیا اور کرائسٹ چرچ کےقاتل کی تعریف کی، جس نے مسجد پر فائرنگ کی ویڈیو کو انٹرنیٹ پر براہ راست نشر کیا تھا۔

مانشاؤس نے حملے کے وقت خود بھی ایسا ہیلمٹ پہنا ہوا تھا جس پر کیمرا نصب تھا اور اس نے مسجد پر حملے کو فلمبند کیا تھا مگر وہ اس حملہ کی وڈیو کوانٹرنیٹ پر نشر کرنے میں ناکام رہا تھا۔

عدالت میں مانشاؤس نے ایڈولف ہٹلر اور براوک کو اپنا رول ماڈل قرار دیا اور نام نہاد یورپی عوام کی نسل کشی کے بارے میں بات کی اور ہولوکاسٹ کو ایک فرضی داستان قرار دیا۔

سات مئی کوانہوں نےدائیں بازو کے انتہا پسندوں کی جانب سےاستعمال کیے جانے والے ہاتھ کے اشارے کا استعمال کیا۔

مسجد میں زیر کیے جانے کےبعدگزشتہ سال جب وہ پہلی بار عدالت میں پیش ہوا تھا تواس کے چہرے اور گردن پر چوٹ کے نشان تھےاورآنکھوں کے گردہلکے پڑے تھے۔ ناروے کے نشریاتی ادارے این آر کے کا کہنا ہے کہ اس نے حملے میں اپنے والد کی رائفل اور شاٹ گن کا استعمال کیا تھا۔

عدالت نے وکیل دفاع کی اس دلیل کو مسترد کردیا کہ منش ہاؤس ذہنی طور پر ٹھیک نہیں اور اس لیے مقدمے کی سماعت کے قابل نہیں۔

جیل کی سزا کے علاوہ، مانشاؤس کو متاثرہ افراد کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے اور قانونی کارروائی کا خرچ جو ایک لاکھ نارویجیئن کرون بنتا ہے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔