تازہ پھلوں کے رس پر بالکل نہ کریں ٹرسٹ
تمام ماں باپ اپنے بچوں کی صحت کو لے کر ہمیشہ بہت فکر مند رہتے ہیں۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ آ پ جو چیزیں بچوں کو دے رہے ہیں اس میں کتنی غذائیت ہے کتنی نہیں ؟ عام طور پر بچے میٹھے کے شوقین ہوتے ہیں بسکٹ چاکلیٹ ان کے کھانے میں شامل نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا، پر کیا آپ کو معلوم ہے کہ جو روز مرہ کی چیزیں آپ اپنے بچوں کو دیتے ہیں اس میں چینی کی مقدار اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ آپ ایک بار دے دیں تو پورا دن کی مقدار ایک ہی وقت میں پوری ہو جاتی ہے۔
اگلی دفعہ بچوں کو سوڈا کے بجائے صحت مند اسمودی کی آفر کرنے سے پہلے یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ آپ سو ملی لیٹر اسمودی میں تیرہ گرام یعنی دو اعشاریہ پانچ چائے کے چمچ کے برابر چینی دے رہیں ہیں جو کہ آپ کے بچے کی روزانہ کے لئے مقرر کی گئی مقدار کی آدھی ہے۔ آن لائن جرنل بی ایم جے میں شائع ہونے والی ایک نئی کے مطابق قدرتی اور تازہ پھلوں کے جوس اور اسمودی میں بھی چینی کی مقدار ناقابل یقین حد تک زیادہ ہوتی ہے۔
تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ امریکن روزانہ اوسطاً بائیس چائے کے چمچ کے برابر چینی استعمال کرتے ہیں جبکہ نوجوان چونتیس چائے کے چمچ کے برابر۔ امریکن ہارٹ ایسو سی ایشن نے بچوں کے لئے تین سے چار چائے کے چمچ کے برابراور نوجوانوں کے لئے پانچ چائے کے چمچ کے برابر چینی روزانہ کی مقدار تجویز کی ہے۔
میٹھے مشروبات کے حوالے سے یہ بات سب جانتے ہیں کہ یہ وزن بڑھاتے ہیں اور دانتوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے اسی وجہ سے لوگ سوڈاکے بجائے تازہ جوس اور اسمودی کوترجیح دیتے ہیں اور ذیادہ صحت مند سمجھ کر اس کی طرف رخ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ سو فیصد پھلوں کے رس بھی اتنے صحت بخش نہیں ہوتے جتنا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ دی امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرک کا کہنا ہے کہ چھ مہینے کے بچے کو جوس نہ دیا جائے جبکہ ایک سے چھ سال کے بچوں کو چار سے چھ اونز یا آدھے کپ کا بھی تین چوتھائی کپ دیا جائے سات سے اٹھارہ سال کی عمرکے لئے آٹھ سے بارہ اونز یاایک سے دو کپ لے سکتے ہیں ۔
یونیورسٹی آف لیورپول اوریونیورسٹی آف لندن کے تحقیق کرنے والوں کے اندازہ کے مطابق سو ملی لیٹر تقریباً تین اعشاریہ پانچ اونز پیکٹ والے جوس یا سو فیصد تازہ پھلوں کے جوس اور اسمودی پیکٹ پر لگے لیبل کے مطابق کہ یہ بچوں کے لئے بنائے گئے ہیں۔ برطانیہ میں ملنے والے جوس جن کا پورشن سائز دوسوملی لیٹر تقریباً سات اونز ہوتا ہے شوگر فری کہلاتے ہیں۔
فری شوگر میں شامل گلوکوز، فرکٹوز، سکروزاور ٹیبل شوگر یہ سب ان جوس میں شامل ہوتی ہیں جس طرح قدرتی چینی شہد، سیرپ ، تازہ پھلوں کا رس ہو یا پھلوں کا رس نکالنے کے بعد جو اجزاءبچ جاتے ہیں ان سب میں پائی جاتی ہیں۔ فرکٹوز قدرتی طور پر پھلوں میں پایا جاتا ہے جب ہم اسے جوس کے طورپر استعمال کرتے ہیں تویہ دانتوں کے لئے اتنا ہی نقصان کا باعث ہوتے ہیں جتنا کہ عام چینی۔ دوسری طرح کی چینی جو پھلوں اور سبزیوں میں پائی جاتی ہیںوہ ہر انسان میں مختلف طرح سے تحلیل ہوتی ہے اور وہ توانائی کو حاصل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ چالیس فیصد سے زیادہ جوس اور اسمودی میں چار چائے کے چمچ کے برابر چینی ہوتی ہے جوکہ تجویز کردہ مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔
اکیس طرح کے پھلوں کےجوس ایسے ہیں جن کے سو ملی لیٹر میں اوسط دس اعشاریہ سات گرام چینی ہوتی ہے جوکہ دو چائے کے چمچ کے برابر ہے اور چوبیس سمودی ایسی ہیں جن کے سو ملی لیٹر میں تیرہ گرام چینی ہوتی ہے جوکہ دو اعشاریہ پانچ چائے کے چمچ کے برابر ہوتی ہے اور چالیس فیصد سے زیادہ جتنی بھی اشیاءہیں ان سب میں انیس گرام یعنی چار چائے کے چمچ کے برابر چینی ہوتی ہے اور یہ بچوں کے لئے روزانہ کی تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ مقدار ہے۔
نوٹ: یہ مضمون محض معلومات عامہ کے لئے ہے۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔