Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 284,660 0
DEATHS 6,097 0
Sindh 123,849 Cases
Punjab 94,477 Cases
Balochistan 11,906 Cases
Islamabad 15,261 Cases
KP 34,692 Cases

لندن: پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں انگلینڈ میں موجود ہے جہاں وہ میزبان ٹیم کے خلاف 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کھیلے گی تاہم کیا آپ جانتے ہیں کہ دورے پر موجود قومی ٹیم خود کو عجیب ایک و غریب صورتحال میں بھی پاسکتی ہے؟

تفصیلات کے مطابق اگر بیفلس، ٹیم کے ساز و سامان اور دیگر اثاثے ضبط کرنے کے اقدام کرتے ہیں تو قومی ٹیم انتہائی عجیب صورتحال میں پھنس سکتی ہے۔

براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی کمپنی پہلے ہی ریاست پاکستان اور نیب کے خلاف ثالثی مقدمہ جیت اورعدالتی احکامات کا مطالبہ کرچکی ہے جس میں پیشہ وارانہ بیلفس کو 'پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اثاثے ضبط کرنے کی ہدایت' کی گئی ہے اور ان کی کارروائی 2 روز میں شروع ہوجائے گی۔

کمپنی کی جانب سے اسلام آباد کے وکیل کو بھیجے گئے خط میں دلیل دی گئی ہے کہ ریاست پاکستان اور قومی احتساب بیورو ایوارڈ کی رقم ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں جو 33 ملین ڈالرز سے زائد ہے۔

براڈشیٹ ایل ایل سی کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ فطرت کے مطابق ٹیم مدعا علیہ کا اثاثہ ہے، ٹیم کے اثاثے قانونی چارہ جوئی کے مدعی کے اثاثے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ برس جولائی میں براڈ شیٹ ایل ایل سی کے خلاف کیس ہار گیا تھا کیونکہ اس کی درخواست کو لندن ہائی کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔

دوسری جانب اس تمام تر صورتحال پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ براڈ شیٹ کمپنی پاکستان ٹیم کے اثاثے ضبط کرسکتی ہے۔

پی سی بی حکام برطانیہ میں پاکستان ایمبیسی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ پاکستان ٹیم کا سامان ضبط کیا جائے کیونکہ پاکستان ٹیم پاکستان کرکٹ بورڈ کی نمائندگی کرتی ہے اور پی سی بی ایک آزاد ادارہ ہے۔