Aaj TV News

BR100 4,445 Increased By ▲ 25 (0.56%)
BR30 22,731 Increased By ▲ 119 (0.53%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

کائنات کے ختم ہونے کے حوالے سے الینوائے سٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر میٹ کیپلن کی نئی تحقیق سامنے آ گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ کائنات کا خاموش اور تاریک اختتام ہوگا تاہم اس دوران ایسے ستاروں کے پھٹنے سے خاموش آتش بازی کا سماں پیدا ہو گا جن کا کبھی پھٹنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔

پیش گوئی کے مطابق اختتام کو پہنچتے وقت کائنات آج کے دور کے مقابلے میں ناقابل شناخت ہو جائے گی، انسانیت کا خاتمہ بہت پہلے ہو چکا ہو گا جب کہ ہر طرف مکمل طور پر اندھیرا چھا جائے گا۔

پروفیسر کیپلن نے کہا کہ سورج کے حجم سے10 گنا چھوٹے ستاروں کے مرکزی حصوں میں بڑے ستاروں کی طرح کشش ثقل یا کثافت موجود نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ ابھی مٹ نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے چند کھرب سالوں بعد یہ ستارے ٹھنڈے ہونا شروع ہو جائیں گے اور ان کی روشنی بھی ختم ہو جائے گی اور وہ بلیک ڈوارف کی شکل اختیار کر لیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اختتام کے وقت کائنات تھوڑی اداس، تنہا، سرد جگہ ہو گی۔