خیبر پختونخوا اسمبلی میں لوڈشیڈنگ پر تنقید

خیبر پختونخوا میں جاری ناروا بجلی لوڈ شیڈنگ کی صوبائی اسمبلی ...
شائع 25 اگست 2020 08:51pm

خیبر پختونخوا میں جاری ناروا بجلی لوڈ شیڈنگ کی صوبائی اسمبلی میں گونج بھی سنائی گی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ پورے صوبے میں لوڈ شیڈنگ اور کم وولیٹج کا مسئلہ ہے، اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے خاتون رکن اسمبلی نے پبلک اکانٹس کمیٹی میں خاتون رکن شامل نہ ہونے پر قائمہ کمیٹی سے استعفیٰ دیدیا ۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر مشتاق غنی کی صدارت میں ہونے والا اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن ارکان خیبر پختونخوا میں جاری بجلی لوڈ شیڈنگ پر کم وولٹٰیج پر بحث شروع کی۔

اے این پی کے سردار حسین بابک نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا صوبہ پانی سے سستی چھ ہزارمیگاواٹ بجلی پیداکرتاہے لیکن پھر بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ حکومتی اختیارکا نشہ پی ٹی آئی کے سر چڑھا ہواہے، صوبہ کے ساتھ کھیواڑہورہاہے۔ہم سوا روپے فی یونٹ بجلی پیداکررہے ہیں لیکن ہماراکنٹرول نہیں۔

اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہم صوبائی حقوق کی بات کریں توفتوے آجاتے ہیں، تین ہزارمیگاواٹ بجلی ضرورت جبکہ سترہ سومیگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔

اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نگہت اورکزئی نے پبلک اکاونٹس کمیٹی میں خواتین کو شامل نہ کرنے پر قائمہ کمیٹی سے احتجاجاً استعفیٰ دیدیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ میں بھی خواتین کی نمائندگی نہیں جو صنفی امتیاز ہے۔