'کسی میں طاقت ہی نہیں ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرے'

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کسی میں طاقت ہی نہیں ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرے۔ سندھ کے عوام ہمارے ساتھ ہیں۔
اپ ڈیٹ 26 اگست 2020 09:40pm
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ- فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ- فائل فوٹو

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آج سندھ کے مختلف اضلاع کادورہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ صوبائی وزراء سید ناصرشاہ،سہیل سیال، مکیش چاولہ، سیکریٹری پی ایچ ای لئیق احمد اورسیکریٹری آبپاشی رفیق بریرو بھی ان کےہمراہ تھے ۔وزیر اعلیٰ سندھ نےملیر،ٹھٹھہ،سجاول،بدین اور حیدرآباد کادورہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ،بارش کے پانی کی نکاسی اورریلیف کے کام کا جائزہ لیا ۔وزیراعلیٰ سندھ نے ملیر کے ماروی گوٹھ کادورہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ کھوئی گوٹھ 22، درسانو چھنو سے30اور حسن پنہور گوٹھ سے 56 لوگوں کا انخلا ہو چکاہے۔مدینہ ٹائون اور یار محمد گوٹھ جو ملیر ندی اور سکھن نالہ میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں انکے لئے وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو انہیں فوری نکالنے کی ہدایت دی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لوگوں کو کھانا اور پانی فراہم کیا جائے اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔

کراچی میں اس سال ریکارڈ بارش ہوئی ہے ۔ برسات کا موسم ابھی ختم نہیں ہوا۔ بارش سے نقصان ہوا لیکن ہمارے نمائندے موجود ہیں۔ 100 سال میں اتنی بارش نہیں ہوئی۔ نئے صوبے کا شوشہ چھوڑنے والوں کے پاس عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔ اس لیے یہ لوگ ہمیشہ اس طرح کا انتشار پھیلاتے ہیں ۔ کراچی سے ہم جیتے نہیں لیکن ہمارے وزراء سڑکوں پرتھے۔ یہ لوگ جب مطمئن نہیں کرپاتے تو ایسی باتیں کرتے ہیں۔ 2 سال سے وزیراعلیٰ ہوں لیکن وفاقی وزراء ملنے کو تیار نہیں ۔ کورونا پر ہمارے کافی وسائل خرچ ہوئے، ریونیو کم جمع ہوا۔ وفاقی حکومت کا اپنا اور صوبوں کے اپنے آئینی اختیارات ہیں۔ اب موقع ملا ہے، وفاقی منصوبوں کے مسائل کو دیکھیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ٹھٹھہ میں بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو برساتی صورتحال کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر اور کمشنر حیدرآباد نے بریفنگ دیتےہوئےکہا کہ 24 سے26 اگست کے درمیان 109ایم ایم بارش ہوئی ہے۔ عیدگاہ ، جھنگ شاہی، بابو شاہ، شیخ فرید، میوچھارا،ڈاکٹراسٹریٹ نکاسی آف ٹھٹھہ،ور، گاہرو، گھوراباری نکاسی آف گھوراباری،گھارو گرھو،میرپور ساکرو اور بوہرا کے نکاسی کے نظام کو پی ایچ ای نے بہتر کیا ہے۔ بارش کا پانی نشیبی علاقوں سے نکال رہے ہیں۔ نکاسی آب کی مشینیں ٹھٹھہ میں 4، میر پور ساکرو میں 3، گھوراباری میں 1 اور کیٹی بندر میں 3 نصب کی گئی ہیں۔ٹھٹھہ کی ڈاکٹر اسٹریٹ میں 1 نکاسی آب پمپ، میرپور ساکرو میں23 اور گھوراباری میں 6 مشینیں لگائی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے ٹھٹھہ شہر کا دورہ کیا جہاں سارے مین روڈز اور گلیاں صاف تھیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے پی ایچ ای، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا۔

انہوں نے کہا مون سون کی جو برساتیں ہوئیں ہیں پورے سندھ میں اس سے پورا صوبہ اور ہمارے شہر متاثر ہوئے ہیں۔ 100 سال میں بھی اتنی بارش نہیں ہوئی ۔اللہ تعالیٰ کاشکر ہے کہ اس وقت صورتحال بہتر ہے کیونکہ 2007 میں جب کراچی میں بارش ہوئی تھی تو 200 لوگوں کی جانیں گئی تھیں۔ پچھلے دو سالوں سے ترقیاتی کاموں کے حوالے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ترقیاتی کام سست روی کا شکاررُکے ہوئے ہیں کیونکہ ایف بی آر کی کلکشن پچھلے دو سالوں سے کم ہے اور اس سال بھی اتنے پیسے جمع کرپائے ہیں جتنے گزشتہ سال کیے تھےاور اُس سے گزشتہ سال تو اور بھی کم پیسے جمع کرپائے تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نےاس موقعہ پر موجود لوگوں سے کہا کہ میں آپ تمام لوگوں کو ماسک پہنے کی ہدایت کرتاہوں کیوں کہ کورونا کی وباابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ قدرتی آفات کو ہم روک نہیں سکتے ، جیسے کہ برسات آتی ہے اُس کو ہم روک تو نہیں سکتے لیکن جیسے ہی برسات ختم ہو جاتی ہے تو ہم پانی کو ڈرین آئوٹ کرتے ہیں اور اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں ۔ گھارو میں مسئلہ ہے ، نئے روڈ بننے کا فائدہ تو ہوتا ہے لیکن ڈیزائن ماڈل یعنی جہاں نالے وغیرہ بنانے ہیں اس پر کام ابھی باقی ہے تاکہ مستقبل میں یہ مسائل نہ ہوں۔ کچھ تجاوزات کے بارے میں بھی مجھے بتایاگیا ہے ۔ ایم پی اے ٹھٹھہ نے مجھے بتایا تھا کہ مسائل ہیں میں خود جاکر دیکھ بھی لوں گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نےحیدرآباد کالونی، ناگن موری کا دورہ کیا جہاں وزیراعلیٰ سندھ نے عوام کی شکایات سنیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اسماعیل گُرمانی کو اللہ وریایو سیرائی گوٹھ سے پانی کی نکاسی کی ہدایت دی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری پی ایچ ای کو پانی کی نکاسی کےلئے ضروری مشینری پہنچانے کی ہدایت دی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے گھونی پھلیلی نالے کا جائزہ لیا جہاں گزشتہ سال شگاف پڑا تھا۔اس میں 3 تعلقوں ، ماتلی، گولارچی اور ٹندو محمد خان کا ڈرین داخل ہوتا ہے ۔گھونی ْڈرین کا پانی ناریری آئوٹ فال میں جاتا ہے جہاں سے سمندر میں داخل ہوتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو سی ای ظارف نےبریفنگ دیتے ہوئےکہا کہ گھونی کا ڈیزائن ڈسچارج کی گنجائش1500 کیوسک ہے، اس وقت 1800 کیوسک کا بہاؤ ہے ۔موجودہ اسپیل میں 24 گھنٹوں میں 167 ایم ایم بارش ہوئی ہے۔ بارش کے پانی کی نکاسی کا سسٹم درست کام کررہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ڈی سی تھرپارکر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 25 اگست کو مٹھی میں 459 ایم ایم، اسلام کوٹ میں 320 ایم ایم ، ڈیپلو 509 ایم ایم ، کلوئی 215 ایم ایم چھاچھرو 267 ایم ایم، ڈاھلی 240 اور ننگر پارکر میں 387 ایم ایم بارش ہوئی۔متاثرہ لوگوں میں پکاپکایا کھانا تقسیم کیاگیا ہے۔ 350 ٹینٹس متاثرہ لوگوں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے سجاول میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی میں طاقت ہی نہیں ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرے۔ سندھ کے عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ نقصان کے ازالے کے لیے پیکیج دیاجائے گا۔کمیٹی ضلع میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگائے گی۔ بارش بہت ہوئی ہے، نقصان بھی ہوا ہے۔

انہوں نےکہاکہ بارش میں نکلوں گاتو عوام کے مسائل پتاچلیں گے اگر ہم اناڑی ہیں تو یہ جو کاریگر بیٹھےہیں آکرسب ٹھیک کریں۔ وزیراعلیٰ ہوں اور لازماًبارشوں میں نکلوں گا،لانگ بوٹ اور رین کوٹ پہنوں گا۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی مقرر کرنا سندھ حکومت، کابینہ کا کام ہے. بلدیاتی اداروں کی آئینی مدت ختم ہورہی ہے۔ نئی حدبندیوں کے بعد ہی بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ کریں گے۔