جعلی بینک اکاؤنٹس کے مرکزی ملزم انور مجید کی ضمانت منظور
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے مرکزی ملزم انور مجید کی ضمانت منظور کر لی، عدالت نے ملزم کو 10 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی اور پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے مرکزی ملزم انور مجید کی درخواست ضمانت پرسماعت کی ۔
نیب پراسیکیورٹر نے 2رکنی بینچ کی سماعت پراعتراض کیا تو جسٹس قاضی امین نے واضح کیا کہ 2رکنی بینچ ضمانت کا کیس سن سکتا ہے۔
انورمجید کے وکیل نے دلائل میں کہاکہ مؤکل 2سال سے جیل میں ہیں، وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہے، ملک میں سرجری سے جان کو خطرہ ہوگا۔
جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ بیمار شخص کو ملک میں رہ کرعلاج کیلئے ضمانت ملنی چاہیئے۔
نیب پراسیکیورٹر نے میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ ملزم کیخلاف 15 انکوائریاں اور 4 ریفرنسز چل رہے ہیں، 4 ارب سے زائد کی کرپشن کا الزام ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب پراسیکوٹر کی میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا مسترد کردی۔
عدالت نے انور مجیدکی طبی بنیادوں پر ضمانت منظورکرلی اورملزم کانام ای سی ایل میں شامل کرنے کاحکم دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے انور مجید کو نیب حکام سے تفتیش میں تعاون کاحکم دیتے ہوئے پاسپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کاحکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے انور مجید کو10 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی جمع کرانے کاحکم دیتے ہوئے کہاکہ بینک گارنٹی ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ کو جمع کرائی جائے ۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ نیب سے عدم تعاون پر انورمجید کی ضمانت خارج کردی جائے گی۔
بینچ نے ریمارکس دیئے کہ نیب کا سیاسی ملزمان سے رویہ دوسرے ملزمان سے الگ ہے، نیب کا رویہ سیاسی ملزمان سے الگ نہیں ہونا چاہیئے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔