سندھ ہائیکورٹ نے شاہد خاقان عباسی کی عبوری ضمانت کی توثیق کردی

کراچی:سندھ ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی عبوری...
شائع 03 ستمبر 2020 02:57pm

کراچی:سندھ ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی عبوری ضمانت کی توثیق کردی،عدالت نے ارشد مرزا، عمران الحق اور یعقوب ستار کی بھی عبوری ضمانت کی توثیق کی۔

سندھ ہائیکورٹ میں 2رکنی بیچو نے ایم ڈی پی ایس اوتقرری کیس میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اوردیگرکی عبوری ضمانت میں توثیق سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

عدالت میں شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے پی ایس او کے سابق ایم ڈیزکی تفصیلات پیش کی جبکہ نجی آئل کمپنیزکا ٹرن اوور اور دیگر تفصیلات بھی پیش کی۔

شاہدخاقانن عباسی کا عدالت میں کہنا تھا کہ بھرتی کیلئےتمام ضابطوں پر عمل کیا گیا،امیدواروں کے انٹرویوز کےبعدشارٹ لسٹ کیاگیا،دیگرعہدوں پر بھی انٹرویوزکئے گئے جبکہ سابق وزیراعظم کےوکیل نےدلائل مکمل کرلئے۔

سابق ایم ڈی عمران الحق کی جانب سے دیئے گئےدلائل میں کہا گیا کہ عمران الحق کوباقاعدہ پروسیس کےبعدایم ڈی مقررکیاگیا،3افرادکوشارٹ لسٹ کیا گیا جس کے بعد عمران الحق کا انتخاب کیا گیا،عمران الحق کی سمری وزیراعظم نے منظورکی تھی۔

وکلاءکاکہناتھاکہ ڈپٹی ایم ڈی آپریشنزاورڈپٹی ایم ڈی فنانس جی پوسٹ کا اضافہ کیا گیا،تعیناتی کیلئے اشتہار شائع کیا گیا تمام قواعدپر عمل کرتے ہوئے یعقوب ستار کو تعینات کیا گیا،تمام قوانین اوررولزکےتحت یعقوب ستار کو ڈی ایم ڈی فنانس مقررکیاگیا۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسارکیا کہ عمران الحق کی ایم ڈی پی ایس او تعیناتی سےقومی خزانےکوکیا نقصان پہنچا؟جس پر نیب پراسیکیوٹرکاکہناتھاکہ میں عدالت کو سمجھاتاہوں۔

جسٹس کے کے آغا کا کہنا تھا کہ آپ خاموش رہیں ہم تفتیشی افسر سے سوال کررہےہیں ،نبا خودمختار ادارہ ہے ،کسی پر انحصارنہیں کرتا،ہمیں مطمئن کریں کہ عمران الحق کی تعیناتی سے کس کو نقصان ہوا اورقوانین کی کہاں خلاف ورزی ہوئی۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتےہوئے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کا کہنا تھا کہ عدالت نےہماری ضمانت کو کنفرم کیا ہے،عدالت کے کسی سوال کا جواب نیب کے پاس نہیں تھا،کیاجرم ہےکس کوفائدہ دیاگیاکس نے غیر قانونی کام کیا،عمران شیخ کا دورپی ایس اوکادورمنافع بخش سال تھے،یہ صرف سیاسی انتقام ہے اورکچھ نہیں،آوازکودبانےکی کوشش ہے پہلےبھی نہیں گھبرائےاور اب بھی نہیں گھبرائے گے۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ چیئرمین نیب کو شرم آنی چاہیئے،انہیں دوسروں کی کرپشن نظرنہیں آتی،انہیں اپنے ادارےکی بھی کرپشن نظرنہیں آتی،اس حکومت کا حال یہ کسی ادارےمیں کوالیفائڈ بندانہیں لگاسکی،وزیر اعظم کی ذہنی کیفیت کا معائنہ ضروری ہےوہ جوباتیں کرتےہیں اس کاحقیت سے کوئی تعلق نہیں۔