ویزا مسترد کرنے کیلئےقانون کی ضرورت نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی درخواست پر...
شائع 07 ستمبر 2020 11:20am

اسلام آباد ہائیکورٹ میں امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی درخواست پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ویزا مسترد کرنے کیلئےقانون کی ضرورت نہیں،یہ بنیادی حق نہیں،ایک استحقاق ہوتا ہے ، آزادی اظہار رائے کا حق بھی غیرمحدود نہیں ہوتا، آئین کے مطابق اس کی بھی حد ہوتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی وزارت داخلہ کے احکامات کیخلاف درخواست کی سماعت کی۔

سنتھیا رچی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ویزا میں توسیع نہ کےی جانے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں، جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریماکس دیئے کہ روزانہ بہت سے شہریوں کے ویزے مسترد کےہ جاتے ہیں، وجوہات بیان کرنے اور قانون کی ضرورت نہیں ہوتی۔

عدالتی استفسار پرسنتھیا ڈی رچی کے وکیل نے بتایاکہ 2درخواستیں ایف آئی اے میں زیر التوا ءہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت سے پہلے سنتھیا رچی کو بیان حلفی میں تمام شکایات درج کرکے جمع کرنے کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔