وکلاء کی تقریب میں شرکت:سپریم کورٹ نے وزیراعظم کونوٹس جاری کردیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنونشن سینٹرمیں وکلاء کی...
اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2020 01:05pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنونشن سینٹرمیں وکلاء کی تقریب میں شرکت کرنے پر وزیر اعظم عمران خان کونوٹس جاری کردیا ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے جائیداد سے متعلق کیس کی سماعت کی، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے پیش نہ ہونے پرعدالت نے برہمی کا اظہارکیا ۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش نہیں ہوئے بلکہ کنونشن سینٹر میں ہونے والے سیاسی اجتماع میں بیٹھے رہے، ایڈووکیٹ جنرل کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے صوبے کا نمائندہ ہوتا ہے،‏وزیراعظم پاکستان پورے ملک کا وزیراعظم ہے یا کسی ایک پارٹی کا؟۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم کونوٹس جاری کردیا، نوٹس کنونشن سینٹرمیں وکلاء کی ایک تقریب پرشرکت کرنے پرجاری کیا ۔

عدالت نے اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب،انچارج کنوشن سینٹراورمتعلقہ وزارتوں کونوٹسزجاری کرتےہوئے جواب طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ نے معاملے پر بینچ تشکیل دینے کیلئے عدالتی حکم نامہ چیف جسٹس گلزار احمد کو ارسال کردیا۔

جسٹس قاضی فائز نے استفسار کیا کہ وزیراعظم بھی کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوتا ہے ،وزیراعظم ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیوں کررہے ہیں؟یہ معاملہ آئین کی تشریح اوربنیادی حقوق کا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے وزیراعظم سے متعلق ریمارکس دیئے کہ بظاہر کنونشن سینٹر میں وزیراعظم نے ذاتی حثیت میں شرکت کی، انچارج کنونشن سینٹر بتائیں کہ کیا اس تقریب کے اخراجات ادا کئے گئے ،نجی حثیت میں کنونشن سینٹرکا استعمال کیا، وزیراعظم پورے ملک اور ہر فرد کے وزیراعظم ہیں ، کسی خاص گروپ کے ساتھ لائن نہیں ہوسکتی،وزیراعظم نے وکلاء کی تقریب میں شرکت کر کے کسی ایک گروپ کی حمایت کی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قاسم چوہان نے مؤقف اپنایا کہ ہر سیاسی جماعت کا ایک ونگ ہے، آئین کا آرٹیکل 17جلسے ،جلوس کی اجازت دیتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کا رتبہ بہت بڑا ہے، یہ تقریب کسی پرائیوٹ ہوٹل میں ہوتی تو اور بات تھی، تقریب کیلئے ٹیکس پئیر کے رویونیو کا استعمال کیا گیا ۔

انہوں نے مزید کہاکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی اپنی ذمہ داریاں ہیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ایسی سرگرمیوں میں شرکت ہوئے جن کا اس سے تعلق نہیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بننے کے بعد وہ اس قسم کی سرگرمیوں میں کیسے شریک ہوسکتے ہیں؟ ۔

سپریم کورٹ نے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور صدرسپریم کورٹ بار کو بھی طلب کیا۔